یروشلم: گلوبل صمود فلوٹیلا کے 2 کارکنوں کی بھوک ہڑتال، عدالت میں پیشی

یروشلم( اسپین وزارت خارجہ، اسرائیلی عدالتی حکام، بین الاقوامی میڈیا رپورٹس)اسرائیل نے بین الاقوامی پانیوں سے حراست میں لیے گئے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے ’’گلوبل صمود فلوٹیلا‘‘ کے دو غیر ملکی کارکنوں کو عدالت میں پیش کر دیا ہے، جنہوں نے حراست کے دوران بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔

اسپین کی وزارت خارجہ نے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینی نژاد ہسپانوی کارکن سیف ابوکیشیک کو فوری طور پر رہا کیا جائے، مؤقف اپنایا گیا ہے کہ انہیں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔ ہسپانوی حکام کے مطابق یہ کارروائی اس وقت ہوئی جب اسرائیلی فورسز نے جمعرات کے روز ایک امدادی کشتی کو روکا اور اس میں سوار کارکن کو گرفتار کر لیا۔

رپورٹس کے مطابق گرفتار کیے گئے کارکنوں میں سیف ابوکیشیک کے ساتھ برازیلی کارکن تھیاغو اویلا بھی شامل ہیں، جنہیں بعد ازاں اسرائیل منتقل کیا گیا۔ دونوں کو اس وقت اسرائیلی شہر اشکلون کی ایک جیل میں رکھا گیا ہے، جہاں ان کی عدالتی پیشی ہوئی۔

اطلاعات کے مطابق دونوں کارکنوں نے حراست کے دوران بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے تاہم وہ پانی استعمال کر رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے الزام عائد کیا ہے کہ حراست کے دوران انہیں سخت سلوک کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اسرائیلی حکام نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔

عدالت نے دونوں افراد کی حراست میں مزید دو روز کی توسیع کر دی ہے۔ وکلاء کا مؤقف ہے کہ انہیں بین الاقوامی پانیوں سے گرفتار کرنا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور ان کی فوری رہائی ضروری ہے۔

واضح رہے کہ ’’گلوبل صمود فلوٹیلا‘‘ کے تحت 50 سے زائد کشتیوں پر مشتمل قافلہ فرانس، اسپین اور اٹلی سے غزہ کے لیے روانہ ہوا تھا تاکہ محصور علاقے تک انسانی امداد پہنچائی جا سکے۔ غزہ 2005 سے بحری، زمینی اور فضائی ناکہ بندی میں ہے جبکہ اکتوبر 2023 کے بعد صورتحال مزید سخت ہو چکی ہے، جس سے لاکھوں افراد متاثر ہو رہے ہیں۔اس واقعے پر اسپین اور برازیل سمیت متعدد ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔