ملٹن سے میئر کیلئےامیدوار زینب عظیم کا”امید کی سیاست” پر زور

ملٹن (اشرف خان لودھی سے) ملٹن میں میئر کے عہدے کیلئے امیدوار زینب عظیم نے اپنی انتخابی مہم کے دوران “امید کی سیاست” کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاست کسی ایک شخصیت کے گرد نہیں بلکہ عوام کے گرد ہونی چاہیے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ بہت سے افراد، جن میں نوجوان، رضاکار اور مختلف مہمات سے وابستہ لوگ شامل ہیں، امید کے ساتھ اس تحریک کا حصہ بنے ہیں اور وہ اپنے شہر میں مثبت تبدیلی لانے کیلئےپرعزم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اصل اہمیت الفاظ کی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ہے، اور یہی سبق انہیں اپنی والدہ سے بھی ملا کہ صرف باتیں کافی نہیں بلکہ کچھ کر کے دکھانا ضروری ہے۔زینب عظیم نے کہا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ کس طرح لوگوں میں امید کم ہوتی جا رہی ہے، تاہم جب لوگ ایک ساتھ مل کر کام کرتے ہیں تو وہ دوبارہ یقین حاصل کر لیتے ہیں کہ تبدیلی ممکن ہے۔

انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ایک بزرگ شہری شروع میں شکوک کا شکار تھے لیکن رضاکاروں کو کام کرتے دیکھ کر وہ بھی اس مہم کا حصہ بن گئے اور امید پر یقین لے آئے۔انہوں نے کہا کہ یہ مہم کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ عوام کی ہے، اور اس کا مقصد لوگوں کو ایک بہتر زندگی فراہم کرنا ہے جہاں وہ اپنے پیاروں کے قریب رہ کر باعزت روزگار اور معیاری زندگی گزار سکیں۔

خطاب میں شہری مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روزانہ طویل سفر، ٹریفک، ناقص ٹرانسپورٹ اور تفریحی مواقع کی کمی شہریوں کا قیمتی وقت ضائع کر رہی ہے۔ ان کے مطابق وقت سب سے قیمتی سرمایہ ہے اور اسے ضائع ہونے سے بچانا ضروری ہے۔انہوں نے وعدہ کیا کہ ان کی ترجیحات میں مقامی سطح پر روزگار کے مواقع، قابلِ اعتماد پبلک ٹرانسپورٹ اور سستی تفریحی سہولیات شامل ہوں گی تاکہ شہری صرف زندہ رہنے کے بجائے ایک مکمل اور خوشحال زندگی گزار سکیں۔

زینب عظیم نے کہا کہ حقیقی کامیابی صرف الیکشن جیتنے میں نہیں بلکہ عوامی مسائل حل کرنے میں ہے، اور اس کیلئے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس عمل میں شریک ہوں اور ذمہ داری اٹھائیں۔انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ تماشائی بننے کے بجائے عملی طور پر حصہ لیں اور مل کر اپنے شہر کو بہتر بنانے میں کردار ادا کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ تاریخ میں ہر بڑی تبدیلی عام لوگوں کی مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ امید کسی ایک دن نہیں آتی بلکہ اسے خود پیدا کرنا پڑتا ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ ملٹن کو امکانات کے شہر سے حقیقت کا شہر بنایا جائے۔واضح رہے کہ زینب عظیم کے والد محمد عظیم بھی ماضی میں انتخابی امیدوار رہ چکے ہیں جبکہ ان کی والدہ رابعہ عظیم پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں۔

“جنگ نیوز کینیڈا” کے چیف ایڈیٹر اشرف خان لودھی کیساتھ خصوصی گفتگو میں زینب عظیم نے کہا ہے کہ وہ سیاست میں آنے کی خواہشمند نہیں تھیں بلکہ خدمت کے جذبے کے تحت اس میدان میں قدم رکھا۔انہوں نے کہا کہ بچپن سے اپنے والدین کو دیکھتی رہی ہیں مگر خود سیاست میں دلچسپی نہیں تھی، اسی لیے پس منظر میں رہ کر تعلیم اور تحقیق کے شعبے سے وابستہ رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نیورو سائنسدان، ریسرچر، مصنف اور استاد ہیں اور ماسٹرز کے طلبہ کو پڑھاتی ہیں۔

زینب عظیم نے بتایا کہ نیویارک میں ایک انتخابی مہم کے دوران انہوں نے دیکھا کہ یہ تحریک کسی ایک شخصیت کے گرد نہیں بلکہ عوام کے گرد گھومتی ہے، جہاں لوگوں کے دلوں میں امید پیدا کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق اگر ایک بڑے شہر میں لوگ بہتری کا انتخاب کر سکتے ہیں تو ملٹن جیسے شہر میں بھی یہ ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اکثر حالات کو مستقل سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں، لیکن اگر مل کر کام کیا جائے تو تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سیاستدان بننے نہیں بلکہ کام کرنے آئی ہیں اور انہیں خوشی ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ اس مہم کا حصہ بن رہے ہیں۔

گفتگو کے دوران اشرف خان لودھی نے زینب عظیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی یہ مہم کامیاب ہوگی اور اس میں بزرگوں کی حمایت بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو موقع ملنے پر آگے بڑھ کر کام کرنا چاہیے۔زینب عظیم نے اپنی کامیابی کا سہرا اپنے والدین کے سر باندھتے ہوئے کہا کہ ان کی حمایت کے بغیر وہ کچھ نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والدین نے انہیں اصولوں اور عوامی خدمت کی زندگی گزارنے کا درس دیا، جو کسی عہدے سے زیادہ اہم ہے۔