یمن میں اسرائیلی حملہ: صنعا کا بجلی گھر تباہ، علاقائی کشیدگی میں اضافہ

صنعا/یروشلم (الجزیرہ + ایجنسیاں)اسرائیلی بحریہ نے یمن کے دارالحکومت صنعا کے قریب حزیاز بجلی گھر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں شدید دھماکوں اور آگ کے بعد بجلی کے جنریٹرز کو نقصان پہنچا۔ یمنی حکام کے مطابق ایمرجنسی ٹیموں نے آگ پر قابو پالیا اور مزید بڑے نقصان سے بچاؤ ممکن بنایا۔

صنعا کے رہائشیوں نے کم از کم دو زوردار دھماکوں کی آوازیں سننے کی تصدیق کی۔اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ بجلی گھر حوثی جنگجوؤں کے استعمال میں تھا۔ تاہم، کسی ثبوت کے بغیر شہری انفرااسٹرکچر پر حملہ جنگی جرم کے خدشات کو بڑھا رہا ہے۔

اسرائیلی فوج نے بیان دیا کہ کارروائی حوثیوں کے بار بار کے حملوں، بشمول میزائل اور ڈرونز کے جواب میں کی گئی۔حوثی گروپ 2023 سے اسرائیل پر ڈرون اور راکٹ حملے کر رہا ہے، جسے وہ غزہ پر اسرائیلی نسل کشی کے ردعمل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

اسرائیل نے جوابی کارروائیوں میں یمن کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے، جن میں الحدیدہ بندرگاہ (انسانی امداد کی مرکزی راہداری)،یمن کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ شامل ہیں۔

حوثیوں نے اسرائیل سے منسلک جہازوں کو بحیرہ احمر میں نشانہ بنایا، جس سے عالمی تجارت متاثر ہوئی۔امریکا اور برطانیہ بھی یمن میں بمباری کر چکے ہیں۔مئی 2025 میں امریکا اور حوثیوں کے درمیان ایک جزوی جنگ بندی معاہدہ ہوا تھا جس کے بعد امریکا نے بمباری روکنے کا اعلان کیا۔

حوثیوں نے امریکی مفادات سے جڑے جہازوں پر حملے بند کیے،لیکن اسرائیل کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے پر زور دیا۔اسرائیل کے یہ حملے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔نیتن یاہو نے واضح کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو “اسرائیل تنہا اپنا دفاع کرے گا”۔

اپنا تبصرہ لکھیں