برسلز (ایجنسیاں) یورپی یونین نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے متنازع ای ون (E1) آبادکاری منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت سے منصوبے کے تحت جاری کیا گیا تعمیراتی ٹینڈر واپس لینے اور آبادکاری کے منصوبے کو روکنے کا مطالبہ کردیا ہے۔
یورپی یونین کے خارجہ امور کے اعلیٰ نمائندے نے کہا ہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاریاں، بشمول ای ون علاقے میں آبادکاری، بین الاقوامی قانون کے تحت غیرقانونی ہیں۔ یورپی یونین کے مطابق ای ون منصوبے پر عمل درآمد مغربی کنارے کو دو حصوں میں تقسیم اور مشرقی یروشلم کو الگ تھلگ کردے گا، جس سے دو ریاستی حل کے امکانات مزید متاثر ہوں گے۔
یورپی یونین نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ ای ون منصوبے کے لیے جاری تعمیراتی ٹینڈر واپس لے، آبادکاری کے منصوبے کو روکے اور مغربی کنارے میں دیگر آبادکاری کی توسیع بھی ختم کرے۔ یورپی یونین نے آبادکاروں کے تشدد کے ذمہ دار افراد کے خلاف جواب دہی یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
اسرائیلی حکومت نے ای ون علاقے میں ایک ہزار 200 سے زائد رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لیے ٹینڈر جاری کیا ہے، جبکہ مجموعی منصوبے میں تقریباً 3,400 رہائشی یونٹس شامل ہیں۔ ای ون کا علاقہ مشرقی یروشلم اور اسرائیلی آبادکاری معالیہ ادومیم کے درمیان واقع ہے۔
اس سے قبل برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز، ناروے اور کینیڈا نے مشترکہ بیان میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے ای ون منصوبے کے لیے تعمیراتی ٹینڈرز جاری کرنے کے فیصلے کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے منصوبہ فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان ممالک نے خبردار کیا کہ منصوبے میں شامل ہونے والی کمپنیوں کو قانونی اور ساکھ سے متعلق نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بعد ازاں یورپی کمیشن سمیت مزید ممالک نے بھی اسرائیل سے ای ون آبادکاری منصوبہ واپس لینے کے مطالبے کی حمایت کی۔برطانوی حکومت نے بھی اسرائیل کے اقدام پر احتجاج کرتے ہوئے اسرائیلی ناظم الامور کو طلب کیا اور منصوبے کو روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ بین الاقوامی سطح پر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ای ون منصوبے کی تکمیل سے ایک قابلِ عمل اور مسلسل فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ مزید مشکل ہوجائے گی۔

