آبنائے ہرمز سے متعلق قانون سازی جلد منظور کی جائیگی: ایرانی پارلیمان

تہران( ایرانی میڈیا)ایرانی پارلیمان کے پریذائیڈنگ بورڈ کے رکن علی رضا سلیمی نے کہا ہے کہ پارلیمان جلد ایک ایسے بل پر ووٹنگ کریگی جو آبنائے ہرمز کے انتظام و انصرام میں ایران کے اختیارات سے متعلق ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق علی رضا سلیمی نے اپنے بیان میں کہا کہ مجوزہ منصوبے کی تمام تفصیلات کو پارلیمان کی منظوری کے بعد حتمی شکل دی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں کے درمیان ایک اہم آبی گزرگاہ ہے اور اس کے انتظام سے متعلق فیصلے ایران کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔

علی رضا سلیمی کا کہنا تھا کہ اس آبی گزرگاہ کے بارے میں کسی دوسرے ملک کو فیصلے کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر مغربی رہنماؤں کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض حلقے آبنائے ہرمز کو ہر صورت کھلا رکھنے کی بات کرتے ہیں، تاہم اس معاملے کا تعلق ایران سے ہے اور کسی بیرونی فریق کو اس بارے میں فیصلہ کرنے کا حق حاصل نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق کیے جانے والے فیصلے عارضی یا وقتی نوعیت کے نہیں ہوں گے بلکہ انہیں مستقل اور حتمی بنیادوں پر مرتب کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور توانائی کی بڑی مقدار کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے اس سے متعلق کسی بھی پیش رفت کو بین الاقوامی سطح پر غیر معمولی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔