وینکوور(سی بی سی)کینیڈا کی کنزرویٹو پارٹی کے رہنما پیئر پوئیلیور نے کہا ہے کہ اگر رواں برس خزاں میں البرٹا کی علیحدگی سے متعلق ریفرنڈم ہوا تو وہ صوبے بھر میں مہم چلا کر عوام کو کینیڈا کا حصہ رہنے پر آمادہ کریں گے۔
برٹش کولمبیا کے شہر نارتھ وینکوور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پیئر پوئیلیور نے کہا کہ وہ مضبوط وفاقی نظام کے حامی ہیں اور البرٹا کو کینیڈا کے وفاق میں برقرار رکھنے کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ “میں پورے صوبے میں مہم چلاؤں گا تاکہ البرٹا کے عوام کینیڈین خاندان کا حصہ رہیں۔”پیئر پوئیلیور نے کہا کہ کنزرویٹو پارٹی کے تمام اراکین البرٹا میں قومی اتحاد کے حق میں مہم چلائیں گے اور پارٹی میں کوئی بھی رکن علیحدگی پسند نہیں۔
دوسری جانب البرٹا میں علیحدگی کے حامی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ریفرنڈم کیلئے درکار لاکھوں دستخط جمع کر لیے ہیں، تاہم گزشتہ ہفتے البرٹا کی عدالت نے قرار دیا کہ صوبائی قانون کے تحت اس درخواست کا اجرا درست طریقے سے نہیں کیا گیا اور حکومت نے فرسٹ نیشنز سے مشاورت کی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کی۔
البرٹا کی وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ، جو متحدہ کینیڈا کے اندر خودمختار البرٹا کی حامی سمجھی جاتی ہیں، نے عدالتی فیصلے کو غیر جمہوری قرار دیا ہے۔ انہیں علیحدگی پسند حلقوں کی جانب سے دباؤ کا سامنا بھی ہے کہ وہ کسی نہ کسی صورت ریفرنڈم کرائیں۔
پیئر پوئیلیور نے کہا کہ اگرچہ کینیڈا متحد رہنے سے مضبوط ہوتا ہے، تاہم البرٹا کے عوام کے بعض تحفظات دور کرنا ضروری ہیں، خاص طور پر قدرتی وسائل کے شعبے کے حوالے سے وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر پائی جانے والی ناراضی۔
انہوں نے کہا کہ البرٹا کو منصفانہ حق ملنا چاہیے، تیل اور گیس کے شعبے پر عائد رکاوٹیں ختم ہونی چاہئیں اور وفاقی حکومت کو اس صنعت کی راہ میں حائل نہیں ہونا چاہیے۔
سابق وزیرِاعلیٰ البرٹا جیسن کینی نے بھی پیئر پوئیلیور کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ وہ متحدہ کینیڈا کیلئے بھرپور قیادت کا کردار ادا کریں گے۔ادھر کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے البرٹا حکومت کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ “کینیڈا کام کر رہا ہے”۔
مارک کارنی نے کہا کہ توانائی کے عالمی بحران کے تناظر میں کینیڈا کو تیل و گیس کی پیداوار بڑھا کر عالمی منڈی کی ضروریات پوری کرنا ہوں گی، جس سے پورا ملک مضبوط اور خوشحال ہوگا۔تاہم پیئر پوئیلیور نے البرٹا اور وفاقی حکومت کے درمیان معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِاعظم مارک کارنی نے سابق وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو کی ترقی مخالف ماحولیاتی پالیسیوں کو برقرار رکھا ہوا ہے۔

