کیلگری(نمائندہ خصوصی) البرٹا کی کینیڈا سے علیحدگی کے معاملے پر اکتوبر میں ہونے والے ریفرنڈم سے قبل ایک نئے سروے میں 74 فیصد البرٹنز نے کینیڈا کے ساتھ رہنے جبکہ 22 فیصد نے صوبائی حکومت کی جانب سے ملک سے علیحدگی کیلئے قانونی عمل شروع کرنے کی حمایت کی ہے۔
ریسرچ کمپنی ’Research Co.‘ کے اگست میں کیے گئے سروے کے مطابق البرٹا میں علیحدگی کے معاملے پر رائے رکھنے والے افراد کی تعداد میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی اور زیادہ تر شہری پہلے سے طے شدہ مؤقف پر قائم ہیں۔
سروے میں شامل 74 فیصد افراد نے کہا کہ وہ البرٹا کو کینیڈا کا حصہ برقرار رکھنے کے حق میں ووٹ دیں گے، جبکہ 22 فیصد نے کہا کہ وہ صوبائی حکومت کی جانب سے کینیڈا سے علیحدگی کے لیے دوسرا اور حتمی ریفرنڈم کرانے کا قانونی عمل شروع کرنے کے حق میں ووٹ دیں گے۔ صرف 4 فیصد افراد نے ابھی اپنی رائے طے نہیں کی۔
35 سے 54 سال کی عمر کے افراد میں علیحدگی کے لیے حتمی ریفرنڈم کی حمایت 27 فیصد رہی، جبکہ 55 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں یہ شرح 20 فیصد اور 18 سے 34 سال کی عمر کے افراد میں 18 فیصد رہی۔
Research Co. کے صدر ماریو کینسیکو کے مطابق علیحدگی کے معاملے پر البرٹا کے شہریوں کی اکثریت اپنا ذہن بنا چکی ہے اور فیصلہ کن مرحلے سے قبل غیر فیصلہ شدہ ووٹرز کی تعداد انتہائی کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ اعداد و شمار علیحدگی کے حامیوں کے لیے کامیابی کے امکانات ظاہر نہیں کرتے۔
یہ سروے 24 سے 26 اگست کے دوران البرٹا کے 750 ممکنہ ووٹرز سے آن لائن کیا گیا، جس میں غلطی کا امکان 3.6 فیصد ہے۔
امیگریشن سے متعلق سوالات پر اکثریت کی حمایت
اکتوبر کے ریفرنڈم میں کینیڈا سے علیحدگی کے سوال کے علاوہ امیگریشن سے متعلق 5 اور آئینی اصلاحات سے متعلق 4 سوالات بھی شامل ہیں۔
سروے کے مطابق امیگریشن سے متعلق پانچوں سوالات پر ممکنہ ووٹرز کی اکثریت نے ’ہاں‘ میں ووٹ دینے کا ارادہ ظاہر کیا، جہاں حمایت کی شرح 58 سے 66 فیصد کے درمیان رہی۔
سب سے زیادہ حمایت اس سوال کو حاصل ہوئی جس میں ووٹنگ کے وقت شہریت کا ثبوت لازمی قرار دینے کی تجویز شامل ہے، جس کی 66 فیصد افراد نے حمایت کی۔
دوسری جانب 58 فیصد افراد نے اس تجویز کی حمایت کی کہ صوبائی حکومت کے مالی تعاون سے چلنے والے پروگرامز، جن میں صحت اور تعلیم بھی شامل ہیں، صرف کینیڈین شہریوں، مستقل رہائشیوں اور البرٹا حکومت کی جانب سے منظور شدہ امیگریشن حیثیت رکھنے والے افراد کے لیے مخصوص کیے جائیں۔
آئینی اصلاحات کے سوالات پر کم حمایت
سروے میں آئینی اصلاحات سے متعلق چار سوالات پر عوامی حمایت نسبتاً کم رہی، جو 39 سے 46 فیصد کے درمیان تھی۔
البرٹا کی آزادی کے حامی گروپ ’Let Alberta Decide‘ کی شریک سربراہ تانیا کلیمنز نے کہا کہ آئینی اصلاحات کے سوالات کو علیحدگی کے سوال کے مقابلے میں زیادہ حمایت ملنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عوام کو آزادی کے ممکنہ نتائج کے بارے میں مزید آگاہی کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب وفاق کے حامی گروپ ’Alberta’s Voice‘ نے ووٹرز سے تمام 9 سوالات کو مسترد کرنے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ گروپ کے سیاسی حکمت عملی ساز اسٹیفن کارٹر کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے ووٹرز ریفرنڈم کے سوالات کو سمجھیں گے، ان کی حمایت میں کمی آسکتی ہے۔
البرٹا کی آزادی کے حامی گروپ کا کہنا ہے کہ آئینی تبدیلیوں کے حق میں ووٹ دینے سے صوبے کو مزید اختیارات مل سکتے ہیں، تاہم وفاق کے حامی حلقے ان تجاویز کو موجودہ نظام کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
البرٹا میں ریفرنڈم 19 اکتوبر کو ہوگا، جس میں علیحدگی سمیت مختلف سیاسی، امیگریشن اور آئینی معاملات پر عوام سے رائے لی جائے گی۔

