اوماہا (ایجنسیاں)امریکی ریاست نبراسکا کے شہر اوماہا میں انسانی اسمگلنگ اور کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال سے متعلق مقدمے میں بھارتی شہری کو 10 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔
پولیس کے مطابق 6 جنوری 2025ء کو چوری کی ایک شکایت کی تحقیقات کے دوران ایک ایسے نیٹ ورک کا سراغ ملا جو کم عمر لڑکیوں کے استحصال میں ملوث تھا۔وفاقی اداروں اور اوماہا پولیس کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں 15 اور 16 سال عمر کی دو کم عمر لڑکیوں کو بازیاب کرایا گیا۔
تحقیقات کے مطابق متاثرہ لڑکیوں کو دیگر ریاستوں سے لا کر ایک ہوٹل میں رکھا گیا تھا جہاں جنسی سرگرمیوں پر مجبور کیا جاتا تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکیوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جاتی تھیں، جبکہ بعض ہوٹل ملازمین اور اسمگلنگ نیٹ ورک کے ارکان کے درمیان مالی لین دین کے شواہد بھی سامنے آئے۔
مقدمے میں گجرات سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ بھارتی شہری کون کمار پٹیل کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا۔عدالتی کارروائی کے دوران کون کمار پٹیل نے اعتراف کیا کہ اس نے ہوٹل کے نقدی فنڈ سے رقم لے کر ایک کم عمر متاثرہ لڑکی تک رسائی حاصل کرنے کیلئے اسمگلروں کو ادائیگی کی تھی۔
حکام کے مطابق کون کمار پٹیل امریکا میں غیر قانونی طور پر مقیم تھا۔ عدالت نے10 سال قید کی سزا سنائی ہے جبکہ سزا مکمل ہونے کے بعد اسے ملک بدر بھی کیا جائیگا۔تحقیقات کے مطابق اس نیٹ ورک میں دیگر بھارتی شہریوں اور مقامی افراد کے ملوث ہونے کے شواہد بھی ملے ہیں، جن کیخلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔

