امریکا یورپ سے فوجی انخلا کی تجاویز نیٹو کے سامنے پیش کریگا:رپورٹ

برلن(رائٹرز، اے ایف پی، جرمن میڈیا)امریکا نے یورپ میں تعینات اپنے فوجیوں کے انخلا کے عمل کو تیز کرنے پر غور شروع کر دیا ہے اور آئندہ ماہ اس حوالے سے تجاویز نیٹو اتحادیوں کے سامنے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

ایک جرمن اخبار نے پینٹاگون کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ واشنگٹن یورپ میں موجود اپنے فوجی اڈوں سے اہلکاروں کی واپسی کے منصوبے پر پیش رفت کر رہا ہے اور اس بارے میں نیٹو کے رکن ممالک کو آگاہ کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق امریکا یورپ میں اپنی فوجی موجودگی کم کرنے اور انخلا کے عمل کو پہلے سے طے شدہ مدت کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے مکمل کرنے پر غور کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ امریکا نے گزشتہ ماہ جرمنی سے 5 ہزار فوجیوں کو واپس بلانے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا، جسے بعض مبصرین نے ایران سے متعلق پالیسی پر امریکا اور یورپی اتحادیوں کے درمیان اختلافات سے جوڑا تھا۔

رپورٹ کے مطابق جرمنی میں اس وقت تقریباً 35 ہزار فعال امریکی فوجی تعینات ہیں، جو یورپ میں کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں سب سے بڑی امریکی فوجی موجودگی ہے۔

پینٹاگون نے اس سے قبل کہا تھا کہ فوجیوں کے انخلا کا عمل 6 سے 12 ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ مجوزہ منصوبے کے تحت اس مدت میں کس حد تک کمی کی جا سکتی ہے۔دوسری جانب پینٹاگون نے اس رپورٹ پر فوری طور پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا۔