واشنگٹن(دی گارڈین، رائٹرز، امریکی کانگریس ریکارڈ)امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ٹرمپ کے ایران کیخلاف جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور کر لی ہے جسے صدر کیلئےایک بڑی سیاسی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے۔
ایوانِ نمائندگان میں ہونے والی ووٹنگ میں قرارداد کے حق میں 215 ووٹ اور مخالفت میں 208 ووٹ آئے۔ اس دوران چار ریپبلکن ارکان نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر قرارداد کی حمایت کی۔
قرارداد کے مطابق صدر کو ایران کے خلاف کسی بھی بڑی فوجی کارروائی یا جنگی اقدام سے قبل کانگریس کی منظوری حاصل کرنا لازمی ہوگا، بصورت دیگر امریکی افواج کو واپس بلانے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ ووٹنگ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ریپبلکن جماعت کے اندر بھی اس جنگ کے حوالے سے اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ اس سے قبل ایوانِ نمائندگان میں اسی نوعیت کی ایک ووٹنگ کو ریپبلکن قیادت نے مؤخر کر دیا تھا کیونکہ اسے ناکام ہونے کا خدشہ تھا۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی گزشتہ ماہ اسی نوعیت کی ایک قرارداد پیش کی گئی تھی، جس میں چند ریپبلکن سینیٹرز نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر صدر کے اختیارات محدود کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
دوسری جانب رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ تین ماہ سے جاری کشیدگی کے دوران کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں اب تک کامیاب نہیں ہو سکیں، جبکہ خطے میں جزوی جنگ بندی کے باوجود تناؤ برقرار ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور خطے میں امریکی بحری موجودگی نے عالمی توانائی اور تجارت پر بھی اثر ڈالا ہے، جبکہ امریکا میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر عوامی تشویش بڑھ رہی ہے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق یہ ووٹ صدر ٹرمپ کی ایران پالیسی پر بڑھتی ہوئی اندرونی مخالفت اور کانگریس کے اختیار کو دوبارہ مضبوط کرنے کی کوششوں کا واضح اظہار ہے۔

