صنعتیں مہنگی بجلی کی وجہ سے پیداواری لاگت کے بحران سے دوچار ہیں: چئیرمین برابری پارٹی
جواد احمد چیئرمین برابری پارٹی نے لاہور پریس کلب میں بجلی کے سنگین مسئلے پر انتہائی اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم آج ایک بہت بڑا دھماکہ کرنے جار رہے ہیں کہ دولت مند حکمرانوں نے عوام سے آج تک یہ تمام معاملات چھپائے رکھے ہیں کہ کس طرح امیر حکمران طبقہ ان کے خون پسینے کی کمائی لوٹ کر اپنی حکومتیں چلا رہی ہے۔ بجلی کے بلوں نے عام لوگوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اور صنعتیں مہنگی بجلی کی وجہ سے پیداواری لاگت کے بحران سے دوچار ہیں۔ اس ضمن میں تمام حکمران طبقہ اور ان کی سیاسی پارٹیاں PMLN, PPP, PTI ملے ہوئے ہیں۔ ہم امیر حکمران اشرافیہ کی اس لوٹ کھسوٹ کو پہلی مرتبہ عوام کے سامنے مستند اعداد و شمار کے ساتھ پیش کرنے جارہے ہیں اور یہ کہ ان حالات سے نکلنے کا حل صرف برابری پارٹی کے پاس ہے، مالی سال 2025-26ء میں آئی پی پی کو ادا کی گئی ٹوٹل کپیسٹی پیمنٹ 1940 ارب روپے ہے۔ اس میں سے بلوچستان کے علاوہ باقی تمام صوبائی حکومتوں پنھاب، سندھ، پختونخوا اور وفاقی حکومت کے ملکیتی IPPs کو کپیسٹی چارجز کی مد میں 951 ارب روپے ادا کئے گئے، جو کہ کل ادا کئے گئے کپیسٹی چارجز کا 49%ہیں، یہ IPPs اپنی مکمل صلاحیت کے بجائے صرف 67.5% پر چل رہے ہیں، جبکہ عوام سے کپیسٹی پیمنٹ ان کی 100%صلاحیت کے مطابق چارج کی جارہی ہے۔ اسی طرح ہمارے ہمالیہ سے بھی بلند دوستی والے ملک چائنہ کے بارے بات کی جائے تو CPECاور چائنیزIPPsکو 699 ارب روپے ادا کئے گئے، جو کہ کل ادا شدہ کپیسٹی پیمنٹ کا 36%ہیں، اور یہ IPPs بھی اپنی مکمل صلاحیت پر چلنے کے بجائے 78%صلاحیت پر چل رہے ہیں۔
اس کے علاوہ دیگر پرائیویٹ IPPs کو291ارب روپے کپیسٹی پیمنٹ کی مد میں ادائیگیاں کی گئیں، جو کہ کل ادائیگیوں کا 29%ہیں، اوریہ IPPs تو اپنی مکمل صلاحیت کے بجائے صرف 41%صلاحیت پر چل رہے ہیں۔
یہ ہے IPPs کی اصل حقیقت جو حکمران اشرافیہ عوام سے چھپائے ہوئے ہے۔ تمام حکومتیں دیگر IPPs کے مقابلے میں سب سے زیادہ کپیسٹی پیمنٹ وصول کر رہی ہیں۔اور انہی پیسوں سے حکومتی امور انجام دیئے جا رہے ہیں۔ سوشلسٹ برابری پارٹی اقتدار میں آتے ہی سب سے پہلے حکومتی IPPs کے تمام کپیسٹی چارجز کا مکمل طور پر خاتمہ کرے گی، چائنہ اور CPECکے تمام IPPs پر چائینز حکومت سے کپیسٹی پیمنٹ کے مکمل خاتمے کے لئے سوشلسٹ بنیادوں پر Renegotiate کرے گی اور چین کے ساتھ منافع کے بجائے تمام منصوبوں کو باہمی تعاون کی پالیسی پر استوار کرے گی۔
بجلی کے مسئلے کے مستقل حل کے لئے ریاست کے زیر کنٹرول مقامی سطح پر مائیکرو گرڈزبنا کر لیتھیم یا سوڈیم بیٹریز کے ذریعے توانائی میں پاکستان کو خودانحصاربنائیں گے تاکہ یہاں بڑے پیمانے پر صنعتیں پھل پھول سکیں۔

