برسلز:پاکستان پہلی بار عالمی کسٹمز تنظیم کی پالیسی کمیشن کیلئے منتخب

برسلز(فہیم النبی سے)پاکستان نے عالمی کسٹمز تنظیم میں ایک تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 2026 سے 2028 کی مدت کیلئے عالمی کسٹمز تنظیم کی پالیسی کمیشن میں انتخاب جیت لیا ہے۔ یہ کامیابی ایشیا پیسیفک خطے کے علاقائی سربراہانِ کسٹمز انتظامیہ اجلاس کے دوران حاصل ہوئی، جو 18 سے 20 مئی 2026 تک ہانگ کانگ میں منعقد ہوا۔ نامزدگی کو جون 2026 میں عالمی کسٹمز تنظیم کونسل اجلاس میں ضابطہ کار کے مطابق توثیق کیلئے پیش کیا جائے گا۔

یہ 1955 سے عالمی کسٹمز تنظیم کی رکنیت کے بعد تقریباً 70 برس میں پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان کسٹمز کو عالمی کسٹمز تنظیم کی پالیسی کمیشن میں نمائندگی حاصل ہوئی ہے۔ اسے حالیہ دہائیوں میں پاکستان کسٹمز کی اہم ترین بین الاقوامی ادارہ جاتی کامیابیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

عالمی کسٹمز تنظیم کی پالیسی کمیشن ادارے کا اہم ترین اسٹریٹجک پالیسی فورم ہے، جو کسٹمز کی جدیدکاری، تجارت میں سہولت، ڈیجیٹل تبدیلی، نفاذی تعاون اور حکومتی اصلاحات سے متعلق عالمی پالیسیوں کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔

پاکستان نے یہ نامزدگی سخت مقابلے کے بعد حاصل کی، جہاں ایشیا پیسیفک خطے کی پانچ نشستوں کیلئے چھ امیدوار میدان میں تھے۔ پاکستان کی امیدواری کی بنیاد عالمی کسٹمز تنظیم کے بڑے انتظامی ڈھانچوں میں طویل عرصے سے عدم نمائندگی، پاکستان کسٹمز کی جدید اصلاحات، خصوصاً پاکستان سنگل ونڈو، ڈیجیٹل کسٹمز اصلاحات اور علاقائی روابط کے منصوبے تھے۔

یہ کامیابی تقریباً دو برس پر محیط مسلسل سفارتی رابطوں، حکمت عملی پر مبنی مہم اور علاقائی ہم آہنگی کا نتیجہ ہے، جس کی قیادت عالمی کسٹمز تنظیم میں پاکستان کے مستقل نمائندے سید اسد رضا رضوی نے کی۔ انہوں نے ایشیا پیسیفک خطے کے رکن ممالک اور عالمی کسٹمز تنظیم کے وفود کے ساتھ مسلسل مشاورت اور رابطے جاری رکھے۔

ستمبر 2023 میں برسلز میں پاکستانی سفارت خانے کے تحت عالمی کسٹمز تنظیم میں پاکستان کسٹمز کے مستقل مشن کے قیام کے بعد پاکستان نے عالمی کسٹمز تنظیم اور ایشیا پیسیفک خطے میں اپنی سفارتی اور ادارہ جاتی موجودگی کو نمایاں طور پر مضبوط بنایا۔ ان کوششوں نے پاکستان کو پالیسی کمیشن کی نشست کیلئے ایک مضبوط امیدوار کے طور پر پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا جسے ایف بی آر اور پاکستان کسٹمز میں بڑی سفارتی اور ادارہ جاتی کامیابی قرار دیا گیا۔

علاقائی سربراہانِ کسٹمز کانفرنس کے دوران پاکستان سنگل ونڈو پاکستان کی علاقائی سطح پر سرگرمیوں کا اہم مرکز رہا۔ پاکستان سنگل ونڈو کے نمائندوں نوید عباس میمن اور سلمان چوہدری کو خصوصی طور پر پاکستان کے سنگل ونڈو ماڈل، ڈیجیٹل انضمامی ڈھانچے اور جدیدکاری کے نظام پر پریزنٹیشن دینے کیلئے مدعو کیا گیا، جسے شریک رکن ممالک نے بے حد سراہا۔

پریزنٹیشن میں پاکستان کی کسٹمز ڈیجیٹلائزیشن، تجارت میں سہولت اور سرحد پار ڈیٹا انضمام میں پیش رفت کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا گیا، جبکہ اس سے علاقائی کسٹمز جدیدکاری اقدامات میں پاکستان کا مثبت تشخص مزید مضبوط ہوا۔

اجلاس کے موقع پر انہی نمائندوں نے ہانگ کانگ کسٹمز کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے، جس کا مقصد ایشیا پیسیفک خطے میں ڈیجیٹل تجارتی سہولت اور کسٹمز ڈیٹا کے تبادلے میں علاقائی تعاون، ہم آہنگی اور انضمام کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کانفرنس کے دوران مشاورتی مراحل، انتخابی مہم اور علاقائی رابطوں میں بھی فعال کردار ادا کیا۔

یہ تمام کوششیں برسلز میں عالمی کسٹمز تنظیم کیلئے پاکستان کسٹمز کے مستقل مشن، ایف بی آر کے بین الاقوامی کسٹمز شعبے کے نمائندے عرفان جاوید اور ان کی ٹیم، اور علاقائی اجلاس میں شریک پاکستانی وفد کے درمیان قریبی رابطہ کاری کے ذریعے انجام دی گئیں، جنہوں نے کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

ایف بی آر اور پاکستان کسٹمز نے عالمی کسٹمز تنظیم میں پاکستان کے مستقل نمائندے سید اسد رضا رضوی کی مسلسل محنت اور اسٹریٹجک رابطہ کاری کو سراہا جبکہ علاقائی اجلاس میں شریک پاکستانی وفد، خصوصاً نوید عباس میمن، سلمان چوہدری اور بین الاقوامی کسٹمز شعبے کے عرفان جاوید اور ان کی ٹیم کی خدمات کو کامیابی میں اہم قرار دیا گیا۔

پاکستان کے انتخاب سے عالمی کسٹمز نظام میں پاکستان کسٹمز کی بین الاقوامی حیثیت مزید مستحکم ہوگی، جبکہ عالمی کسٹمز حکمرانی کے نظام میں پاکستان کی آواز مضبوط ہونے کے ساتھ تکنیکی تعاون اور مستقبل کی عالمی کسٹمز پالیسی سازی میں نئے مواقع بھی میسر آئیں گے۔