بنوں میں کار بم حملہ اور جھڑپ، 21 اہلکار ہلاک

بنوں( الجزیرہ، رائٹرز، اے پی)خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس چوکی پر کار بم حملے اور اس کے بعد ہونیوالی شدید جھڑپ میں کم از کم 21 اہلکار ہلاک ہوگئے۔غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق حملہ ہفتے کی شب افغانستان سے ملحقہ علاقے میں کیا گیا، جس کی ذمہ داری شدت پسند گروپ اتحاد المجاہدین پاکستان نے قبول کی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق خودکش بمبار نے دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی سیکیورٹی چوکی کے قریب اڑا دی، جس کے بعد متعدد دھماکے ہوئے اور چوکی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔واقعے کے بعد مسلح حملہ آوروں نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ بھی کی جبکہ جائے وقوعہ پر پہنچنے والے اضافی نفری کو بھی گھات لگا کر نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹس کے مطابق حملہ آوروں نے کارروائی کے دوران ڈرونز کا بھی استعمال کیا۔ حملے میں متعدد اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے 3 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔دھماکوں کے باعث قریبی آبادی کو بھی نقصان پہنچا جبکہ 2 شہری زخمی ہوئے۔ امدادی ٹیموں اور ایمبولینسوں کو فوری طور پر جائے وقوعہ پر روانہ کیا گیا اور بنوں کے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس سے منسلک گروہ ماضی میں بھی اس نوعیت کے حملے کرتے رہے ہیں۔ پاکستان مسلسل افغانستان پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، تاہم افغان طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔