راجستھان(بھارتی میڈیا)بھارتی ریاست راجستھان میں گاڑی میں آگ لگنے کا ایک واقعہ تحقیقات کے بعد چار افراد کے قتل کے مقدمے میں تبدیل ہو گیا، پولیس نے مقتول کے 17 سالہ بیٹے کو مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سابق سرپنچ رام سنگھ چوہدری، ان کی دوسری اہلیہ، والدہ اور بھتیجی کی لاشیں ایک جلی ہوئی گاڑی سے ملی تھیں۔ ابتدائی طور پر واقعے کو حادثہ سمجھا گیا، تاہم بعد ازاں تحقیقات میں قتل کے شواہد سامنے آئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران مقتول کے 17 سالہ بیٹے کا رویہ مشکوک محسوس ہوا، جس کے بعد تحقیقات کا رخ تبدیل کیا گیا۔
پولیس کے مطابق ملزم نے تقریباً پانچ ماہ تک منصوبہ بندی کی اور واردات کی رات اپنے والد پر چاقو سے حملہ کیا۔ شور سن کر دوسری اہلیہ، دادی اور بھتیجی بھی موقع پر پہنچیں تو انہیں بھی قتل کر دیا گیا۔تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزم کی والدہ اور خالہ نے مبینہ طور پر اس کی معاونت کی۔
پولیس کے مطابق خاندان میں دوسری شادی، جائیداد اور وراثت کے معاملات پر طویل عرصے سے تنازعات جاری تھے، جبکہ مقتول کی بھتیجی مالی امور اور زمینوں کی دیکھ بھال کی ذمہ دار تھی، جس پر اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے تھے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق قتل کے بعد لاشوں کو گاڑی میں رکھ کر آگ لگا دی گئی تاکہ واقعے کو حادثہ ظاہر کیا جا سکے، تاہم لاشوں پر چاقو کے زخم اور جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد نے مبینہ منصوبے کو بے نقاب کر دیا۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

