بھارت کے زیرتسلط مقبوضہ کشمیر پاکستان کے بہت نزدیک ہے لیکن کشمیر کی بھارت سے آزادی کتنی دور ہے اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ جو کہا جاسکتا ہے وہ یہ کہ ناامیدی کے اس منظرنامے میں بھی بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بہادر اور پرعزم کشمیریوں نے بھارت سے آزادی لینے کا جھنڈا 8دہائیوں سے بلند کیا ہوا ہے۔ دنیا بھر میں کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کیلئے مختلف دن جلسے جلوسوں اور بیانات کے ذریعے منائے جاتے ہیں جبکہ کشمیری دنیا کا ضمیر جھنجھوڑنے کیلئے بارہ مہینے اپنا خون دیتے رہتے ہیں۔ پاکستان ہرطرح سے اُن کی اخلاقی و سفارتی مدد کرتا رہتا ہے۔ انسانیت کے دکھوں پر موٹے موٹے آنسو بہانے والی ہمدرد اور نرم دل منافق دنیا بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے کشمیریوں کے کٹے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو دیکھ نہیں پاتی۔ عالمی فیصلہ سازی کے طاقتور ٹھیکیدار یورپ اور امریکہ کی اہم شخصیات ذاتی محفلوں میں اس بات کا برملا اعتراف کرتی ہیں کہ ماڈرن دنیا میں بھارت کا ظلم برداشت کرنے اور آزادی کی تحریک کیلئےان گنت قربانیاں دینے کی سب سے لمبی تاریخ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہی لکھی جارہی ہے لیکن انسانی حقوق کے دوہرے چہرے لیے یہ شخصیات جب اپنے اپنے ملکوں کی سرکاری کرسی میز پر بیٹھتی ہیں تو بھارتی مقبوضہ کشمیریوں کے بہنے والے خون کو دو ملکوں کے درمیان کا معاملہ کہہ کر چپ سادھ لیتی ہیں۔ اُن سے اس شرمناک دوہرے معیار کی وجہ دریافت کی جائے تو صرف ایک ہی بات سامنے آتی ہے کہ بھارت جیسے بہت زیادہ آبادی والے ملک کو ناراض کرکے مغرب اور امریکہ کے کاروباری مفادات کو نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا۔ حالانکہ مغرب اور امریکہ اپنے کاروباری مفادات کو نقصان پہنچائے بغیر بھی ایشیاء میں مستقل امن لاسکتا ہے۔ وہ ایسے کہ برصغیر میں ہندوستان کی ہزاروں برس پر پھیلی تاریخ بتاتی ہے کہ موجودہ بھارت میں شروع سے ہی چھوٹی چھوٹی کئی ریاستیں قائم تھیں جو اپنے اپنے راجاؤں کے زیرانتظام تھیں۔ مغل اور دیگر مسلمان حکمرانوں نے برصغیر میں پھیلی اکثر اِن چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو زیادہ تر یکجا کرکے بڑی آبادی والا ایک ملک بنا دیا اور انگریزوں نے 1857ء کے بعد تقریباً اسی یکجا ہندوستان پر کم از کم ایک سو برس حکمرانی کی۔ ہندوؤں نے 1947ء میں انگریزوں کے جانے کے بعد برصغیر کے پورے زمینی خطے پر چالاکی سے قبضہ کرنا چاہا جس کیلئے انہوں نے اکھنڈ بھارت کا نعرہ لگایا۔ اپنے آپ کو دنیا کے بہترین سکالر اور تاریخ دان کہنے والے ہندو پروفیسروں میں سے کوئی بھی یہ نہیں بتا سکتا کہ مسلمانوں اور انگریزوں کی حکومت سے پہلے ہندوستان کب اکھنڈ بھارت تھا؟ ہندوؤں کی مذہبی کتاب مہابھارت میں بھی ہندو کزنوں کی آپس کی لڑائیوں کا ہی ذکر ہے۔ ہندوؤں کی اس مذہبی کتاب میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ ایک دوسرے کی ریاستوں پر قبضے کیلئے خونی رشتے کیسے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے لیکن ہندوؤں نے 1947ء کے بعد دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک دی اور تاریخ کے وہ صفحات غائب کردیئے جن میں پرانے اصل ہندوستان کی سرزمین کئی ریاستوں پر مبنی تھی۔ امریکہ اور یورپ جیسے طاقتور ممالک اب بھی ہندوستان کی تاریخ کی اُس کتاب کو پڑھ کر ایشیاء میں امن لاسکتے ہیں اور اپنے کاروباری مفادات بھی جاری رکھ سکتے ہیں۔ اگر بے ڈھنگے اور بے ہنگم پھیلے موجودہ ہندوستان کو پہلے کی طرح کے پرانے اصل ہندوستان کی طرح تاریخی اعتبار سے صدیوں پرانی چھوٹی چھوٹی آزاد ریاستوں میں تقسیم کردیا جائے تو جارحانہ پالیسی، دوسروں پر قبضہ کرنے اور خون بہانے والے موجودہ ہندوستان کے مرکزی تخت سے جان چھوٹ جائے گی۔ دوسرا یہ کہ برصغیر کی چھوٹی چھوٹی اِن نئی ریاستوں سے مغربی ممالک اور امریکہ کو کاروباری معاملات براہِ راست طے کرنے میں بھی آسانی ہوگی۔ یہ مجوزہ ریاستیں کئی یورپی ممالک کے سائز کے برابر یا اُن سے بڑی ہوں گی۔ موجودہ بھارت جہاں اپنے ہمسایوں کیلئے ایک خونخوار ہمسایہ ہے وہیں اپنی آبادی میں مختلف نسلوں اور قومیتوں کیلئے بھی ایک عذابِ عظیم ہے۔ نچلی ذات کے ہندو، تامل، سکھ، مسلمان، عیسائی، بنگالی، میزورام، ناگا لینڈ، منی پور، آسام، تری پورہ وغیرہ اور سب سے زیادہ کشمیری ایسی قومیتیں ہیں جو ہندوستان کے خودغرض حکمرانوں کے فلسفہ اکھنڈ بھارت کی آگ میں جھلس رہی ہیں۔ اگر انٹرنیشنل اداروں کے تحت ہندوستان میں اکھنڈ بھارت کے نظریئے پر ریفرنڈم کرایا جائے تو موجودہ تاریخ کی سب سے بڑی حقیقت اور ظلم واضح ہو جائیگا۔ حقیقت یہ کہ ہندوستان کی مذکورہ قومیں اکھنڈ بھارت کی بجائے اپنی علیحدہ علیحدہ ریاستیں قائم کرنا چاہیں گی اور ظلم یہ کہ اکھنڈ بھارت کے نظریئے کے مختصر حمایتی ٹولے نے ہندوستان کی 80فیصد سے زائد آبادی کو اپنے پنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ اکھنڈ بھارت کے اِن خون آلود صفحات میں سب سے زیادہ لرزہ خیز باب بھارتی مقبوضہ کشمیر کا ہے۔ اصل حقیقت جاننے والے جانتے ہیں کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے کا سہرا نہرو کے ساتھ ساتھ کسی اور کے سربھی جاتا ہے۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر پر قابض موجودہ بھارتی فوجیوں اور موجودہ ظالم بھارتی حکمرانوں کو اس سلسلے میں ماؤنٹ بیٹن کی بیوی کا زیادہ شکرگزار ہونا چاہئے کیونکہ ماؤنٹ بیٹن کی بیوی کے نہرو کے ساتھ خصوصی تعلقات کے ہاتھوں بلیک میل ہوکر ہی ماؤنٹ بیٹن نے کشمیر کی گردن پر چھری رکھی تھی۔ دنیا بھر میں خفیہ دستاویزات کو عام کرنے کا رواج بڑھ رہا ہے۔ اسی کا تقاضا ہے کہ 1947ء اور اُس کے آس پاس کشمیر کو تقسیم کرنے اور اُس پر قبضہ کرنے کیلئے نہرو اور بعد کے ہندوستانی حکمرانوں کی جو آپس کی سرکاری خط و کتابت یا میٹنگز ہوئیں اور ان ہندوستانی حکمرانوں کی بعض دوسرے ممالک سے جو خفیہ خط و کتابت اور میٹنگز ہوئیں انہیں دنیا کے سامنے سرعام کھول دیا جائے تاکہ سیکولر اور جمہوری ہندوستان کا اصل جھوٹا کالا چہرہ سامنے آسکے۔ ہندوستان کے زیرقبضہ موجودہ زمینی خطے کی ریاستوں میں اکھنڈ بھارت یا آزاد ریاست کا ریفرنڈم کرایا جائے تو یہ ضرور پتا چل جائیگاکہ اکھنڈ بھارت کا نظریہ حکومتی امپائر کی بجائے انسانوں کا خون پینے والا ایک ریاستی ویمپائر ہے۔ لہٰذا دنیا کے امن کیلئے ضروری ہے کہ اکھنڈ بھارت کے نظریئے کی جگہ موجودہ بھارت میں کشمیر، خالصتان، تامل، بنگالی، دلت، میزورام، ناگالینڈ، منی پور، آسام اور تری پورہ وغیرہ جیسی مختلف علاقوں کی شناخت کی علیحدہ علیحدہ آزاد پرانی تاریخی فطری ریاستیں قائم ہوں تاکہ بالخصوص خطے اور بالعموم دنیا میں امن آسکے۔

