دوحہ (غیر ملکی میڈیا) قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد بن محمد الانصاری نے کہا ہے کہ امریکا نے اپنے اندازوں کی بنیاد پر جنگ میں جانے کا فیصلہ کیا، جبکہ قطر کشیدگی میں کمی اور اپنے ملک پر حملے رکوانے کیلئے امریکا کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران ترجمان نے کہا کہ خلیجی ممالک کو خطے کے سیکیورٹی نظام کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے، تاہم دفاعی معاہدے مجموعی طور پر مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دفاتر میں دوبارہ کام شروع کرنے کا فیصلہ سیکیورٹی جائزوں کی بنیاد پر کیا گیا اور اب معمول کی زندگی کی طرف واپس جانا ضروری ہے۔
ترجمان کے مطابق قطر کسی بھی اہم تنصیبات پر ممکنہ حملے کی صورت میں جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے، جبکہ گزشتہ چند دنوں میں ایسا کوئی حملہ ریکارڈ نہیں کیا گیا جس پر باقاعدہ الرٹ جاری کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ الرٹ جاری نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ قطر کو نشانہ نہیں بنایا گیا، ایران سے جاری جنگ کے باعث خلیجی خطے کا سیکیورٹی نظام متاثر ہو چکا ہے، اس لیے علاقائی ممالک کو اپنے دفاعی نظام کا ازسرِ نو جائزہ لینا ہوگا۔

