واشنگٹن (بی بی سی/اے ایف پی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین دونوں ممالک کے صدور جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں، تاہم یہ جنگ کب ختم ہوگی اس حوالے سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
وائٹ ہاؤس میں یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ “یوکرین کی سیکیورٹی یقینی بنانے کیلئے ہم سب مل کر مدد کریں گے، روس اور یوکرین کے درمیان دیرپا امن قائم کریں گے اور ہم اس کیلئےاقدامات کر رہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ دنیا میں امن قائم ہو اور سب تجارت کریں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا امریکی سرزمین پر آنا اُن کی شکست نہیں تھا بلکہ پیوٹن کے لیے بھی ایک مشکل فیصلہ تھا۔بی بی سی کے مطابق جب ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا امریکا امن معاہدے کیلئے امن دستے یوکرین بھیجے گا؟ تو انہوں نے کہا کہ “ہم یوکرین کے ساتھ اور سب کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ امن طویل المدتی اور دیرپا ہو۔”
ایک صحافی نے ان کے اس بیان پر سوال اٹھایا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ “زیلنسکی چاہیں تو فوراً جنگ ختم کر سکتے ہیں”۔ ٹرمپ نے جواب دیا کہ یہ درست ہے اور مزید کہا کہ روس، یوکرین اور امریکا کے درمیان سہ فریقی ملاقات ہوگی، جہاں جنگ ختم کرنے کا “اچھا موقع” موجود ہے۔
اس موقع پر یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ وہ جنگ کے خاتمے کیلئےصدر ٹرمپ کے سفارتی راستے کی حمایت کرتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ علاقے چھوڑنے پر غور کریں گے؟ تو انہوں نے کہا کہ “ہمیں جنگ کو روکنا ہے، روس کو روکنا ہے۔” انہوں نے کہا کہ یوکرینی عوام مضبوط ہیں اور وہ ٹرمپ کے منصوبے کی حمایت کرتے ہیں کہ جنگ کو ایک “سفارتی طریقے” سے ختم کیا جائے۔
زیلنسکی نے مزید کہا کہ وہ امریکی صدر اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ سہ فریقی ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔
قبل ازیں زیلنسکی وائٹ ہاؤس پہنچے جہاں ٹرمپ نے ان کا استقبال کیا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ روس اور یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے سرگرم ہیں۔ چند روز قبل الاسکا میں ان کی ملاقات روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے بھی ہوئی تھی، تاہم اس ملاقات میں یوکرین کے معاملے پر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ دونوں رہنماؤں نے چند نکات پر اتفاق اور دوستانہ تعلقات دوبارہ قائم کرنے پر زور دیا، مگر جنگ بندی کے حوالے سے کوئی اعلان سامنے نہیں آیا تھا۔
اے ایف پی کے مطابق تین گھنٹے کی گفتگو کے بعد ٹرمپ اور پیوٹن نے گرم جوش کلمات کہے لیکن صحافیوں کے سوالات نہیں لیے۔ ٹرمپ نے اس ملاقات کو “انتہائی نتیجہ خیز” قرار دیا اور کہا کہ کئی نکات پر اتفاق ہوا ہے لیکن تفصیل نہیں بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ “جب تک مکمل معاہدہ نہ ہو، کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔”

