بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم نے دو ٹیسٹ میچوں کی ہوم سیریز میں شاہینوں کو چاروں شانے چت کر دیا اور ان کی پرواز چھین لی۔ بنگلہ دیش کی ٹیم نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو کھیل کے ہر شعبہ میں مات دی ہے اور ان میچوں میں بنگلہ دیش ٹیم کا کمی نیشن ایسا بنا اور نظر آیا کہ وہ اب دنیاء کرکٹ کی کسی بھی ٹیم کے چیلنج کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ بنگلہ دیش کے سینئر کھلاڑیوں نے اپنی نمائندگی کا حق ادا کیا۔ لٹن داس اور مشفیق الرحیم کی اپنی اپنی سنچری نے بھی ثابت کیا کہ ٹیم کا ہر کھلاڑی اہم ہوتا ہے۔ بنگلہ دیش کے کھلاڑیوں کے ہوش و جوش نے ہم جیسے شائقین کو بہت متاثر کیا ہے۔ ٹائیگروں نے یہ سیریز جیت کر یہ ریکارڈ بھی بنایا کہ وہ صرف اپنی ہوم گراؤنڈ ہی کے کھلاڑی نہیں ہیں کہ وہ اس سے قبل اپنے دورہ پاکستان میں بھی وائٹ واش کا اعزاز حاصل کر چکے تھے۔
کھیل کے اختتام پر مبصرین اور سپورٹس رپورٹرز اور سابق کھلاڑی اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں جہاں تک سابق کھلاڑیوں کا تعلق ہے تو سبھی غیر جانبدارانہ رائے نہیں دے رہے۔ ان میں سے اکثر متعصب اور خود گروپنگ کا شکار ہیں تاہم میں نے سابق کپتان اور چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ کی طویل تحریر کو غور سے پڑھا وہ اس سیریز کے دوران بھی بطور کمنٹیٹر بنگلہ دیش میں ٹیم کے ساتھ رہے اور دونوں میچوں کا ایک ایک بال دیکھا انہوں نے بڑی تفصیل سے تقابل کیا۔ شاہینوں کی کمزوریوں کا ذکر کیا،وہ خود ایک بڑے کھلاڑی،کپتان اور منتظم اعلیٰ رہے اِس لئے ان کی رائے کو اہمیت دی جانا چاہئے۔ میں تو کلب کرکٹ کا کھلاڑی اور شائق کھیل ہوں اس لئے کوشش ہوتی ہے کہ پاکستان کے سب میچ دیکھ سکوں اگرچہ کام کی نوعیت اور وقت کی قلت مجبور کرتی ہے کہ جستہ جستہ بریک بھی لیا جائے اس کی کسرجھلکیاں دیکھ کر پوری کر لی جاتی ہے۔ شاہینوں کی درگت بنتے دیکھ کر بہت کچھ یاد آ جاتا ہے کہ ابتداء ہی سے کھیلنے اور کھیل کا حصہ بنتا چلا آیا ہوں۔ سکپر کار دار، فضل محمود،خان محمد، امتیاز احمد، شجاع الدین، ساجد خان، عمران خان، جاوید میانداد سے سعید احمد اور دیگر اہم کھلاڑی اور کپتان بھی یاد آ جاتے ہیں، بھارت کی ٹیم کے ساتھ ہونے والے ٹیسٹ میچ اور ایک روزہ سیریز بھی دیکھتا رہا ہوں، ٹیم جب غیر ملکی دروے پر ہوتی تو جمشید مارکر اور عمر قریشی کی عمدہ ریڈیو کمنٹری سے بھی محظوظ ہوتے تھے۔
ماضی ہمیشہ اچھا ہوتا ہے لیکن شاہینوں کے حوالے سے ماضی قریب بھی بہتر تھا، پھر ان کو شاید نظر لگ گئی اور کوئی کالے نصیب والا آ گیا گرچہ کسی بھی تنظیم یا ٹیم میں گروپنگ تو ہوتی ہے اور کرکٹ میں رہی، لیکن ایسا نہیں تھا کہ وہ گروہ بندی کھیل پر اثرانداز ہو بلکہ یہ کھیل کی بہتری کے لئے ہوتی لیکن پھر ایک ایسا وقت آیا کہ کوچ اور چیف کوچ مل کر ذاتی پسند و ناپسند کی وجہ سے نوجوانوں کے کیریئر تباہ کرنے لگے ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ ایک ساؤتھ افریقی کوچ ناپسندیدہ کھلاڑی کو ”سن آف دی بِچ“ کہہ دیتے اور احتجاج پر کیریئر ختم۔ یہ تو تھا ہی کہ پھر بابر اعظم کے خلاف لابی متحرک ہوگئی،میں مانتا ہوں کہ بابر اعظم بھی کپتانی کے دور میں اِس وباء کا شکار رہا، لیکن کارکردگی کے لحاظ سے ٹیم درست تھی، لیکن کچھ حضرات کو آٹا گوندھتی کے سر ہلنے والی بات یاد آ گئی اور انہوں نے بابر اعظم پر سنگین تر الزام لگا دیئے تھے۔یوں اس عالمی شہرت کے حامل قومی کھلاڑی پر بھی زوال کے آثار ہوئے اور اب تک صورتحال میں کوئی زیادہ تبدیلی نہیں ہوئی،حالانکہ بابر اعظم کی بہت کرکٹ باقی ہے وہ کئی اور عالمی ریکارڈ بنا سکتا ہے۔
خیر یہ ایسا موضوع ہے جوانتہائی غیر جانبداری سے تحقیقی جرنلزم کا متقاضی ہے، بدقسمتی سے یہاں بھی زوال اور پسند نا پسند کے علاوہ علاقائی اور لسانی تعصب بھی ہے جہاں تک پرچی سسٹم کا تعلق ہے تو یہ وباء پرانی ہے اور اسی بناء پر افواہیں پھیلتی ہیں جبکہ ثقلین جیسے پرہیز گار بھی اپنے داماد کی جا و بے جا حمایت پر اُتر آتے ہیں۔
اس سلسلے میں بھی اب دو سینئر سابق کھلاڑیوں کے درمیان مقابلہ ہے دیکھیں آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے ہوم سیریز میں قرعہ فال کس داماد کے نام نکلتا ہے یا پھر کوئی اور پرچی کام آتی ہے اگرچہ ماحول کی نسبت سے موجودہ تینوں فارمیٹ کے کپتانوں کو رضاکارانہ طور پر الگ ہوجانا چاہئے اور اِس کا یہ مطلب بھی نہ ہو کہ بابراعظم یا رضوان پر نظر ٹک جائے ان حضرات کو بھی اپنے کیرئیر کا خیال کرنا ہو گا۔ اب پھر مسئلہ یہ ہو گا کہ سربراہی کون کرے تو اس کے لئے طویل مشاورت کی ضرورت ہو گی اور ایسا کھلاڑی سامنے آئے جسے پچ، موسمی حالات، حریف ٹیم اور اپنے کھلاڑیوں کی اہلیت کا مکمل علم ہو۔ میں اوول کے ہیرو کی مثال دوں گا جب لارڈز ٹیسٹ میں گریوینی کھیلنے کے لئے آئے تو سکپر کاردار نے ایک بہتر جگہ سے فیلڈر کو غیر موزوں جگہ کھڑا کر دیا۔ کمنٹیٹر حیران تھے تاہم سکپر نے فضل محمود سے بات کی اور ان کی اگلی بال پر گریوینی اسی فیلڈر کو کیچ دے بیٹھے جو نادرست جگہ کھڑا کیا گیا تھا، یہ تجربے اور کامن سینس کی بات تھی۔
اب اگر بنگلہ دیش کی جیت کا ذکر کیا جائے تو میرے خیال میں یہ شکست کم عقلی، غلط کپتانی اور پرچی سسٹم کے باعث ہوئی۔ شان مسعود نہ تو لٹن داس اور نہ ہی مشفق الرحیم کی سنچری روک کر ان کو آؤٹ کرا سکے اور نہ ہی گروپنگ سے جان چھڑا سکے۔ خود ان کی اپنی جگہ نہیں بنتی چہ جائیکہ انہوں نے ٹیم مینجمنٹ کے ساتھ مل کر سعود شکیل کے باعث نوجوان ہونہار دونوں کھلاڑیوں کے مستقبل داؤ پر لگا دیئے، کپتان تو وکٹ جان سکے نہ ہی ان کی فیلڈ پلیسنگ اور باؤلنگ بہتر تھی انہوں نے بنگلہ دیش کے دونوں سنچری والے کھلاڑیوں کو آؤٹ کرانے کی کوشش نہیں کی وہ بار بار باؤلنگ تبدیل کر کے اور عباس کا اینڈ بھی تبدیل کر کے کوشش کر سکتے تھے لیکن انہوں نے لٹن داس کی سنچری دو باؤلروں کو طویل اوور دیکر کرائی،حالانکہ ضرورت کھلاڑی کی توجہ ہٹانے کی تھی۔
کہا تو یہ جا رہا تھا کہ بابر اعظم کے لئے نوجوان کھلاڑی عبداللہ فضل کو قربان کیا جائے گا لیکن ہوا یہ کہ پہلے میچ میں سعود شکیل کے لئے بابر اعظم اور دوسرے میچ میں اسی سعود شکیل کے لئے ریگولر اوپنر امام الحق کو باہر بٹھا کر دو نوجوان اور ابھرتے کھلاڑیوں کو قربان کر دیا یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ دونوں اپنی ابتداء میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے باعث اوپننگ کر کے بنگلہ دیش کے فاسٹ باؤلروں کا مقابلہ اور سامنا کر سکتے۔اگر امام الحق ہوتے اور عبداللہ فضل پانچویں نمبر پر کھیلتے تو فرق محسوس کیا جاتا۔
اب پھر یہ سوال ہے کہ کرکٹ کو مافیا سے بچایا جائے، رمیض راجہ کی پوسٹ سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں ہو۔ عمل شرط ہے۔برائی کی اصل جڑ کا سب کو علم ہے سنا ہے اس کے پاس بڑے خواجہ کی بڑی پرچی ہے،اپنے محسن نقوی صاحب کو توکچھ نہیں کہا جا سکتا وہ جنگ ختم کرانے میں مصروف ہیں۔

