نیویارک/یروشلم (اے ایف پی/رائٹرز) اسرائیل کی جانب سے غزہ پر قبضے کے اعلان کے بعد اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس نیویارک میں جاری ہے جس میں عالمی امن و سلامتی کی صورتحال پر غور کیا جا رہا ہے۔اس حوالے سے نیویارک سے خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ اجلاس یورپی ملکوں برطانیہ، فرانس، ڈنمارک، سلووینیا اور یونان کی درخواست پر بُلایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیلی وحشیانہ حملے اور نسل کشی جاری ہے اور چند روز قبل اسرائیل نے غزہ پر قبضے کا اعلان کیا ہے۔
آج اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے قبل پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ حماس کے ہتھیار ڈالنے سے انکار پر اس کے خاتمے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
اسرائیلی حکام نے اعلان کیا ہے کہ غزہ پر مکمل فوجی کنٹرول قائم کیا جا رہا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ اس اعلان کے بعد فلسطینی اتھارٹی اور متعدد عرب ممالک نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی درخواست پر بلایا گیا، جس میں اراکین صورتحال کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں ممکنہ قرارداد یا مشترکہ بیان پر غور جاری ہے، جو اسرائیل کے اقدام کی مذمت اور فوری طور پر قبضے کا خاتمہ یقینی بنانے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
امریکی، چینی، روسی اور یورپی نمائندوں کے بیانات میں صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ متعدد ممالک نے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی پر زور دیا ہے۔ عرب گروپ کے اراکین نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں انسانی ہمدردی کی امداد بلا رکاوٹ پہنچائی جائے اور شہری آبادی کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

