لاہور (نمائندہ خصوصی)پنجاب حکومت نے لاہور کی متعدد تاریخی سڑکوں، شاہراہوں اور علاقوں کے تقسیمِ ہند سے قبل کے نام دوبارہ بحال کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کو شہر کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کی بحالی کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ منصوبہ لاہور ہیریٹیج ایریاز ریوائیول منصوبے کے سربراہ اور سابق وزیرِاعظم نواز شریف کی تجویز پر سامنے آیا جبکہ اس حوالے سے فیصلہ وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِصدارت پنجاب کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔
حکومتی فیصلے کے مطابق سنت نگر کا نام دوبارہ سنت نگر، مولانا ظفر علی خان چوک کا نام لکشمی چوک، مصطفیٰ آباد کا نام دھرم پورہ اور سر آغا خان روڈ کا نام دوبارہ ڈیوس روڈ رکھا جا رہا ہے۔اسی طرح علامہ اقبال روڈ کو دوبارہ جیل روڈ، فاطمہ جناح روڈ کو کوئینز روڈ اور باغِ جناح کو لارنس گارڈنز کے نام سے بحال کیا جائے گا۔
دیگر تبدیلیوں میں اسلام پورہ کا نام کرشن نگر، حمید نظامی روڈ کا ٹیمپل اسٹریٹ، نشتر روڈ کا برینڈرتھ روڈ اور رحمان گلی کا رام گلی رکھا جائے گا۔اسی طرح بابری مسجد چوک کا نام دوبارہ جین مندر ، غازی آباد کا کمہار پورہ، جیلانی روڈ کا آؤٹ فال روڈ اور شاہراہ عبد الحمید بن بادیس کا نام ایمپریس روڈ بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نواز شریف نے منٹو پارک، جو اب گریٹر اقبال پارک کہلاتا ہے، میں تین تاریخی کرکٹ گراؤنڈز اور روایتی اکھاڑے کی بحالی کی تجویز بھی دی ہے۔ بعض حلقے اس اقدام کو ماضی میں ان مقامات کے خاتمے پر ہونے والی تنقید کے بعد “ڈیمیج کنٹرول”قرار دے رہے ہیں۔

