مقبوضہ بیت المقدس (ہآرتس، یروشلم پوسٹ، دی میڈیا لائن،القدس العربی، قدس نیوز، صفا نیوز)اسرائیلی حکومت نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں یہودیوں کو عبادت اور دعائیہ رسومات کی اجازت دینے کی پالیسی میں مزید پیش رفت کی ہے، جبکہ اسرائیلی وزیر قومی سلامتی اتمار بن گویر نے اس اقدام کی تصدیق کردی ہے۔
اسرائیلی اخبار کے مطابق مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کو دعائیہ کتابیں ساتھ لے جانے اور ان کے ذریعے عبادت کرنے کی اجازت دی گئی، جسے اسرائیلی حکومت کی جانب سے ایک ’’ابتدائی تجربہ‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس اجازت کے بعد یہودیوں کو مسجد اقصیٰ کے احاطے میں دعائیہ کتابوں کے ساتھ عبادت کرتے بھی دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ اقدام مسجد اقصیٰ میں غیر مسلموں کے داخلے اور عبادت سے متعلق موجودہ انتظامات میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا جارہا ہے۔ فلسطینی حکام نے بھی اس اقدام کو مسجد اقصیٰ کی موجودہ حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
فلسطینی تنظیم آزادی کے محکمہ امورِ القدس نے کہا ہے کہ یہ اقدام مسجد اقصیٰ کے اندر مذہبی تقسیم مسلط کرنے کی راہ ہموار کرسکتا ہے اور اس کے موجودہ تشخص کو تبدیل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
واضح رہے کہ جنوری 2026 میں بھی اسرائیلی پولیس نے پہلی مرتبہ یہودی زائرین کو مسجد اقصیٰ کے احاطے میں یہودی دعائیہ کتابیں لے جانے کی اجازت دی تھی، جسے موجودہ صورتِ حال میں مزید آگے بڑھایا گیا ہے۔

