نئی دہلی (اے ایف پی/رائٹرز)بھارت کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں ایک ہندو مندر میں زائرین کے ہجوم کے دوران بھگدڑ مچنے سے کم از کم 9 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہو گئے۔
نائب وزیرِاعلیٰ پون کلیان کے مطابق حادثہ اُس وقت پیش آیا جب بڑی تعداد میں زائرین سری کاکولم شہر کے سری وینکٹیشورا سوامی مندر میں مند ایکادشی کے موقع پر ایک ساتھ داخل ہونے لگے۔
پون کلیان نے واقعے کو ’’انتہائی افسوسناک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مندر نجی انتظامیہ کے تحت چلایا جا رہا تھا، اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 9 ہے۔آندھرا پردیش کے گورنر ایس۔ عبدالنذیر نے بھگدڑ میں ہلاک ہونے والے یاتریوں کے لواحقین سے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
ریاستی وزیر انم راما نارائنا ریڈی کے مطابق، واقعے کے وقت 25 ہزار سے زائد زائرین مندر میں جمع ہو گئے تھے، حالانکہ مندر کی گنجائش صرف 2 ہزار افراد کی تھی۔ گنجائش سے کئی گنا زیادہ افراد کے داخلے کے باعث بھگدڑ مچ گئی۔ضلعی حکام کو زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
ضلع سری کاکولم کے کلیکٹر و مجسٹریٹ سواپنل دنکر پنڈکر نے بتایا کہ اب تک 18 زخمیوں کی اطلاع ملی ہے، جن میں سے دو کی حالت نازک ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ (سابق ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ حکومت ہلاک شدگان کے لواحقین کو 2300 امریکی ڈالر (تقریباً 6 لاکھ 40 ہزار روپے) اور زخمیوں کو 570 امریکی ڈالر (تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے) بطور معاوضہ ادا کرے گی۔
مودی نے کہا”میں اُن تمام خاندانوں سے دلی تعزیت کرتا ہوں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا۔”واضح رہے کہ بھارت میں مذہبی اجتماعات اور میلوں میں بھگدڑ کے واقعات عام ہیں۔ستمبر میں تمل ناڈو میں اداکار سے سیاست دان بننے والے وِجے تھلاپتی کی انتخابی ریلی میں بھگدڑ کے باعث 36 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
جون میں ریاست اوڈیشا میں ایک ہندو تہوار کے دوران 3 افراد جبکہ گزشتہ ماہ گوا میں مذہبی رسم کے موقع پر 6 افراد ہلاک ہوئے۔رواں سال جنوری میں پریاگ راج میں کمبھ میلے کے دوران 30 افراد بھگدڑ میں جان کی بازی ہار گئے تھے۔

