نئی دہلی: تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پراحتجاج، پولیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج

نئی دہلی ( بی بی سی، پریس ٹرسٹ آف انڈیا) بھارت میں تعلیمی اصلاحات، امتحانی نظام میں شفافیت اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج میں شدت آ گئی، جہاں طلبہ، والدین اور سماجی کارکنوں نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا، جبکہ متعدد مظاہرین نے وزیراعظم نریندر مودی کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق طلبہ، والدین، سیاسی و سماجی کارکنوں نے تعلیمی نظام میں اصلاحات اور مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف نئی دہلی میں احتجاجی مارچ کیا، جسے روکنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔

رپورٹس کے مطابق معروف سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم سونم وانگ چک کو اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد احتجاج میں مزید شدت آ گئی، جس کے بعد طلبہ تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا۔

احتجاج میں شریک ایک سیاسی جماعت کے بانی ابھیجیت دیپکے نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سونم وانگ چک کو زبردستی حراست میں لیا گیا۔ انہوں نے وفاقی وزیرِ تعلیم کے ساتھ ساتھ وزیراعظم نریندر مودی سے بھی استعفے کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت تعلیمی نظام میں شفافیت، امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور نوجوانوں کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ حکومتی مؤقف اس حوالے سے سامنے نہیں آیا۔