واشنگٹن(رائٹرز) امریکا کے محکمۂ خارجہ نے کانگریس کو آگاہ کیا ہے کہ وہ اپنے عالمی سفارتی نیٹ ورک کو محدود کرنے کے منصوبے کے تحت کینیڈا سمیت پانچ ممالک میں موجود سفارتی دفاتر بند کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق محکمۂ خارجہ نے گزشتہ ہفتے کانگریس کی بعض کمیٹیوں کو بھیجے گئے نوٹس میں بتایا کہ گریناڈا کے شہر سینٹ جارجز، جاپان کے ناگویا، انڈونیشیا کے میدان، کیمرون کے دوالا اور کینیڈا کے شہر ونی پیگ میں امریکی سفارتی مشنز بند کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ ایک غیر معمولی اقدام ہے، کیونکہ کسی مخصوص جغرافیائی یا سیکیورٹی بحران کے بغیر امریکا کی جانب سے ایک ہی وقت میں متعدد سفارتی دفاتر بند کرنے کی مثال کم ہی ملتی ہے۔
رواں سال کے آغاز میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے “امریکا فرسٹ” پالیسی کے تحت امریکی بیوروکریسی کو ازسرِ نو منظم کرنے کے منصوبے کے تحت تقریباً ایک درجن سفارتی مشنز بند کرنے کی تیاری شروع کی تھی۔ ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس کے آفس آف مینجمنٹ اینڈ بجٹ نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے تقریباً 30 سفارتی مشنز بند کرنے کی تجویز دی تھی۔
امریکی انتظامیہ کے بعض حکام کا مؤقف ہے کہ چھوٹے سفارتی دفاتر غیر ضروری ہیں اور ان پر ہونے والے اخراجات مؤثر نہیں، جبکہ ڈیموکریٹ رہنماؤں اور سابق سفارتی و قومی سلامتی کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ امریکی سفارتی موجودگی میں کمی اور امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے خاتمے جیسے اقدامات سے عالمی سطح پر امریکی اثرورسوخ کمزور ہوسکتا ہے اور اس سے چین اور روس جیسے ممالک کے لیے مزید گنجائش پیدا ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس محکمۂ خارجہ میں وسیع انتظامی اصلاحات کے تحت متعدد شعبے ختم اور سیکڑوں ملازمین کی خدمات ختم کی گئیں، تاہم اس دوران کوئی سفارتی مشن بند نہیں کیا گیا تھا۔
اتوار کے روز تبصرے کی درخواست پر امریکی محکمۂ خارجہ نے مجوزہ بندشوں کی تصدیق یا تردید نہیں کی، تاہم اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کیلئےکام کر رہا ہے کہ امریکا کا عالمی سفارتی نیٹ ورک مؤثر اور وسائل کے اعتبار سے موزوں رہے، جبکہ کانگریس کو اطلاع دینے کے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اخراجات میں کمی کے اقدامات کو ایک ایسی تنظیم کو مناسب حجم تک محدود کرنے کی کوشش قرار دیا ہے، جسے بہت سے قدامت پسند حلقے ضرورت سے زیادہ وسیع اور بیوروکریٹک سمجھتے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق سینٹ جارجز میں امریکی سفارت خانہ قائم ہے، جبکہ میدان، ونی پیگ اور ناگویا میں امریکی قونصل خانے موجود ہیں۔ دوالا میں امریکی سفارت خانے کی برانچ آفس کام کر رہی ہے، جو متعلقہ ملک کے دارالحکومت سے باہر امریکی مفادات کی نمائندگی کرتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں امریکا نے بحرالکاہل کے خطے میں کئی نئے سفارتی مشنز قائم کیے تھے تاکہ چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کا مقابلہ کیا جاسکے۔ اس وقت چین کی دوالا اور ونی پیگ میں فعال سفارتی موجودگی نہیں، تاہم سینٹ جارجز، ناگویا اور میدان میں اس کے سفارتی دفاتر موجود ہیں۔

