وفاقی حکومت کا مغربی ساحل تک مجوزہ آئل پائپ لائن کو قومی مفاد کا منصوبہ قرار دینے کی جانب پیش رفت

اوٹاوا(سی بی سی) وزیراعظم مارک کارنی کی حکومت نے البرٹا سے کینیڈا کے مغربی ساحل تک مجوزہ خام تیل کی پائپ لائن کو قومی مفاد کا منصوبہ قرار دینے کے عمل میں پیش رفت کرتے ہوئے باضابطہ کارروائی شروع کر دی ہے۔

یکم اگست کو کینیڈا گزٹ میں شائع ہونے والے نوٹس کے مطابق بل سی-5 (بلڈنگ کینیڈا ایکٹ) کے تحت اس مجوزہ منصوبے کو قومی مفاد کے منصوبوں کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے 30 روزہ نوٹس اور مشاورتی عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

قانون کے مطابق وفاقی حکومت کسی منصوبے کو قومی مفاد قرار دینے سے قبل متعلقہ صوبائی یا علاقائی حکومت سے مشاورت کرے گی، جس کے بعد اسے شیڈول ون میں شامل کیا جا سکے گا۔

بل سی-5 کے تحت قومی مفاد کے حامل منصوبوں کی منظوری، ماحولیاتی جائزوں اور دیگر ریگولیٹری مراحل کو تیز رفتاری سے مکمل کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

حکومتِ البرٹا کے مطابق مجوزہ پائپ لائن تقریباً 12 سو 50 کلومیٹر طویل ہوگی اور موجودہ ٹرانس ماؤنٹین پائپ لائن کے قریب واقع راہداری استعمال کرتے ہوئے یومیہ تقریباً 10 لاکھ بیرل خام تیل مغربی ساحل تک پہنچائے گی۔

حکومتِ البرٹا کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے کینیڈا کی توانائی کے شعبے میں خودمختاری بڑھے گی اور عالمی منڈی میں ملک کی مسابقتی صلاحیت مضبوط ہوگی۔دوسری جانب متعدد ماحولیاتی تنظیموں نے اس منصوبے کی سخت مخالفت کی ہے۔

ماحولیاتی تنظیم انوائرمنٹل ڈیفنس کی قومی موسمیاتی امور کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر جولیا لیون نے کہا کہ وفاقی حکومت غیر معمولی عجلت سے اس منصوبے کو آگے بڑھا رہی ہے اور ضروری نگرانی کے عمل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیراعظم مارک کارنی کو یہ سوچنا چاہیے کہ مزید جنگلاتی آگ، شدید گرمی، خشک سالی، تباہ ہونے والی آبادیاں، متاثرہ روزگار اور قیمتی جانوں کے ضیاع کے بعد ہی کیا فوسل فیول کی پیداوار بڑھانے کی پالیسی پر نظرثانی کی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق مئی میں وفاقی حکومت کی جانب سے جاری دو مشاورتی دستاویزات میں قومی مفاد کے منصوبوں کے لیے مزید سہولتوں کی تجاویز بھی دی گئی تھیں، جن میں بعض منصوبوں کو مکمل جائزے سے پہلے منظوری دینا اور اسپیشیز ایٹ رسک ایکٹ کے بعض تقاضوں سے استثنا دینا شامل تھا۔

سرکاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزیر برائے بین الحکومتی امور ڈومینک لی بلانک، البرٹا اور برٹش کولمبیا کی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے، جبکہ مقامی (انڈیجینس) برادریوں سے مشاورت کا عمل بھی جاری رہے گا۔وفاقی حکومت نے عوامی آرا اور تجاویز جمع کرانے کیلئے18 ستمبر کی آخری تاریخ مقرر کی ہے۔