تہران (ایجنسیاں)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے مؤخر کرنے کے اعلان کے باوجود اسرائیل نے ایران میں متعدد تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ذرائع کے مطابق اسرائیلی حملوں میں ایک بجلی گھر، دو اسٹیل کارخانے اور ایک سویلین نیوکلیئر تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائیاں امریکا کے ساتھ رابطے میں کی گئیں، تاہم ایران ان اقدامات کی بھاری قیمت وصول کرے گا۔عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی عوام کے مفادات کو خطرے میں ڈالا ہے اور یہ حکمت عملی بری طرح ناکام ہو رہی ہے۔
ادھر خُنداب میں بھاری پانی کے ریسرچ ری ایکٹر پر حملے کے بعد ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکا اور اسرائیل سے وابستہ کمپنیوں کے افراد کو فوری طور پر کام کی جگہیں چھوڑنے کی وارننگ جاری کی ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے 10 روز کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

