وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان نے ملک بھر میں اس بحث کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے کہ آیا پاکستان میں مزید صوبے قائم کیے جانے چاہییں۔ 30 جولائی 2026 کو اسلام آباد میں پاکستان اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کا موجودہ نظامِ حکمرانی عملاً ناکام ہو چکا ہے اور بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں رہا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرکے چھوٹے انتظامی یونٹس یا نئے صوبے قائم کیے جائیں تاکہ حکومت عام شہریوں کے قریب آسکے، عوامی خدمات بہتر ہوں اور مقامی صنعتوں کو بیوروکریسی کی رکاوٹوں سے نجات مل سکے۔
ان کے بیان پر مختلف حلقوں کی جانب سے ملا جلا ردِعمل سامنے آیا۔ حامیوں نے علاقائی عدم مساوات اور انتظامی پسماندگی کو اس تجویز کے حق میں دلیل کے طور پر پیش کیا، جبکہ ناقدین نے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے، آئینی تحفظات اور عوامی مشاورت کی ضرورت پر زور دیا۔
2026 میں پاکستان کی آبادی تقریباً 25 کروڑ 93 لاکھ بتائی جاتی ہے، مگر ملک میں اب بھی صرف چار آئینی صوبے ہیں: پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان۔ گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر اپنی مخصوص آئینی اور سیاسی حیثیت کے باعث الگ انتظامی ڈھانچوں کے تحت چلائے جاتے ہیں۔
آبادی میں نمایاں اضافے، تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی اور بہتر نمائندگی کے مسلسل مطالبات کے باوجود ملک کا صوبائی ڈھانچہ بڑی حد تک جوں کا توں ہے۔ جنوبی پنجاب، اندرونِ سندھ، ہزارہ، سابق قبائلی اضلاع اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں کے باشندے اکثر شکایت کرتے ہیں کہ صوبائی دارالحکومت ان سے بہت دور ہیں اور ترقی کے بیشتر وسائل چند بڑے شہروں تک محدود رہتے ہیں۔
دنیا کے مختلف ممالک کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس عوامی نمائندگی اور حکومت تک رسائی کو بہتر بنا سکتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ مہنگی بیوروکریسی، مالی طور پر کمزور حکومتوں اور نئے سیاسی تنازعات کا خطرہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔
پاکستان کیلئے بھارت کی مثال سب سے زیادہ موزوں معلوم ہوتی ہے۔ سن 2000 میں بھارت نے بڑی ریاستوں کو تقسیم کرکے اتراکھنڈ، چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ قائم کیے، لیکن ان تینوں کے نتائج ایک جیسے نہیں رہے۔
اتراکھنڈ کو عموماً کامیاب مثال تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے پہاڑی اضلاع پہلے اتر پردیش کے دور دراز میدانی علاقوں سے چلائے جاتے تھے۔ الگ ریاست بننے کے بعد سڑکوں، سیاحت، بنیادی ڈھانچے اور مقامی جغرافیائی ضروریات پر زیادہ توجہ دی گئی۔
چھتیس گڑھ کے نتائج ملے جلے رہے۔ الگ حکومت کے قیام سے مقامی مسائل پر انتظامی توجہ بڑھی، لیکن غربت، قبائلی آبادی کی بے دخلی اور مسلح تنازعات جیسے سنگین مسائل بدستور موجود رہے۔
جھارکھنڈ اس معاملے میں سب سے واضح تنبیہ پیش کرتا ہے۔ قدرتی اور معدنی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود یہ ریاست سیاسی عدم استحکام، بدعنوانی اور کمزور اداروں کا شکار رہی۔ بار بار سیاسی تبدیلیوں نے طویل المدتی منصوبہ بندی کو متاثر کیا، جبکہ عام شہریوں کی بڑی تعداد اپنے خطے کی قدرتی دولت سے خاطر خواہ فائدہ نہ اٹھا سکی۔ بھارت کا تجربہ ثابت کرتا ہے کہ چھوٹے صوبے یا ریاستیں اسی وقت کامیاب ہوسکتی ہیں جب ادارے مضبوط، قیادت مستحکم اور منصوبہ بندی مؤثر ہو۔
تلنگانہ 2014 میں آندھرا پردیش سے الگ ہوا۔ اس کے قیام کے حامیوں کا کہنا تھا کہ خطے کو وسائل کی تقسیم، آب پاشی اور سرکاری ترجیحات میں مسلسل نظرانداز کیا گیا۔ الگ ریاست بننے کے بعد تلنگانہ کو اپنے بجٹ اور ترقیاتی ترجیحات پر زیادہ اختیار حاصل ہوا۔ تاہم اسے حیدرآباد جیسا بڑا تجارتی اور صنعتی مرکز بھی ورثے میں ملا، اس لیے اس کی ترقی کا تمام تر سہرا صرف نئی ریاست کے قیام کو نہیں دیا جاسکتا۔
نائیجیریا ضرورت سے زیادہ انتظامی تقسیم کے خطرات کو نمایاں کرتا ہے۔ آزادی کے وقت وہاں صرف تین بڑے خطے تھے، مگر آج 36 ریاستیں ہیں۔ نئی ریاستوں کے قیام سے بڑے خطوں کی بالادستی کم ہوئی، اقلیتوں کی نمائندگی بہتر ہوئی اور حکومت کئی علاقوں کے نسبتاً قریب پہنچی۔
تاہم اس کی قیمت بھی بھاری رہی۔ بہت سی ریاستیں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی آمدن پیدا نہیں کر پاتیں اور وفاقی تیل کی آمدن پر انحصار کرتی ہیں۔ ہر ریاست کے لیے الگ گورنر، اسمبلی، وزارتیں اور بیوروکریسی درکار ہوتی ہے۔ اس عمل نے سیاسی سرپرستی کو فروغ دیا اور مزید ریاستیں بنانے کے مطالبات کو جنم دیا۔ پاکستان کو ایسے صوبوں کے قیام سے گریز کرنا چاہیے جن کا بنیادی مقصد عوامی خدمات کی فراہمی کے بجائے محض عہدے اور مراعات تقسیم کرنا ہو۔
انڈونیشیا کا تجربہ بھی احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔ 1998 کے بعد وہاں اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لیے متعدد نئے صوبے، اضلاع اور بلدیاتی ادارے قائم کیے گئے۔ بعض نظرانداز علاقوں کو شناخت، وسائل اور سرکاری اداروں تک بہتر رسائی حاصل ہوئی، لیکن تیز رفتار انتظامی تقسیم کے نتیجے میں کئی نئے یونٹس کو تربیت یافتہ عملے کی کمی، بڑھتے ہوئے اخراجات، مقامی بدعنوانی اور کمزور باہمی رابطے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ محض نئی سرحدیں قائم کرنا مؤثر انتظامیہ کا متبادل نہیں ہوسکتا۔
کینیڈا میں 1999 میں نوناوُت کے قیام سے وہاں کی غالب انوئٹ آبادی کو زمین، زبان، ثقافت اور مقامی اداروں پر زیادہ اختیار کے ساتھ بہتر سیاسی نمائندگی بھی حاصل ہوئی۔ اس کے باوجود وہاں رہائش کی شدید کمی، غذائی عدم تحفظ، عوامی خدمات کے بلند اخراجات اور وفاقی امداد پر انحصار جیسے مسائل برقرار ہیں۔ اس مثال سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی نمائندگی میں بہتری ہمیشہ فوری معاشی ترقی کی ضمانت نہیں بنتی۔
ان تمام مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ نہ بڑے صوبے ہر حال میں بہتر ہوتے ہیں اور نہ چھوٹے۔ بڑے صوبوں کو وسیع مالی وسائل، مستحکم اداروں اور بڑے پیمانے پر خدمات فراہم کرنے کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ تاہم حد سے زیادہ بڑے صوبے انتظامی طور پر دور، غیر جواب دہ اور ضرورت سے زیادہ مرکزیت کا شکار ہوسکتے ہیں، جس کے نتیجے میں ترقی صوبائی دارالحکومت یا چند بڑے شہروں تک محدود رہ جاتی ہے۔
چھوٹے صوبے حکومت کو شہریوں کے قریب لاسکتے ہیں اور عوامی نمائندگی بہتر بنا سکتے ہیں، لیکن ان کے باعث انتظامی اخراجات بڑھنے، نئی سیاسی اشرافیہ پیدا ہونے اور دارالحکومت، پانی، ملازمتوں، سرکاری اثاثوں اور قدرتی وسائل پر تنازعات شدت اختیار کرنے کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔
پاکستان کو دونوں انتہاؤں سے بچنا چاہیے۔ صرف چار صوبوں پر قائم رہنا اب پہلے کی طرح قابلِ دفاع نہیں رہا، لیکن درجنوں کمزور اور مالی طور پر وفاق کے محتاج صوبوں کا قیام بھی نقصان دہ ثابت ہوگا۔
ملک کو مرحلہ وار سات یا آٹھ معاشی طور پر قابلِ عمل صوبوں کی طرف بڑھنے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ جنوبی پنجاب اس سلسلے میں سب سے نمایاں امیدوار ہے، جبکہ ہزارہ اور دیگر علاقوں سے متعلق تجاویز کا جائزہ انتخابی مصلحتوں کے بجائے تحقیق، عوامی مشاورت اور معاشی تجزیے کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔
ہر نئے صوبے کے لیے مناسب آبادی، پائیدار مالی وسائل، قابلِ عمل سرحدیں اور تعلیم، صحت، پولیس اور بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کی مؤثر صلاحیت لازمی ہونی چاہیے۔ سرکاری اثاثوں، قرضوں، ملازمین، پانی کے حقوق اور قدرتی وسائل کی تقسیم شفاف اور متفقہ اصولوں کے تحت ہونی چاہیے۔
ہر نئے صوبے میں اقلیتوں کے حقوق کو آئینی تحفظ دینا بھی ناگزیر ہے۔ صرف نسلی یا لسانی بنیادوں پر صوبے بنانا ایک قسم کی بالادستی کو ختم کرکے دوسری قسم کی بالادستی پیدا کرسکتا ہے۔
ایک آزاد قومی کمیشن کو آبادی، جغرافیہ، معاشی خودکفالت، ثقافتی شناخت، مواصلاتی روابط اور عوامی رائے کی بنیاد پر ممکنہ صوبائی سرحدوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کو قلیل مدتی انتخابی فائدے کے لیے وفاقی ڈھانچہ تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ نئے صوبوں کے قیام سے اس وقت تک حقیقی تبدیلی نہیں آئے گی جب تک اختیارات صوبائی سطح سے بھی نیچے منتقل نہ کیے جائیں۔ صوبائی حکومتیں اکثر اسلام آباد سے خودمختاری کا مطالبہ کرتی ہیں، مگر خود بلدیاتی اداروں اور اضلاع کو اختیارات اور مالی وسائل منتقل کرنے سے گریز کرتی ہیں۔
اچھی حکمرانی اور قابلِ اعتماد احتساب بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔ بدعنوانی، سیاسی سرپرستی اور زمینوں پر قبضہ کرنے والے مافیاز اداروں کو کمزور اور عوامی وسائل کو ضائع کرتے ہیں۔ اگر یہی خرابیاں نئے صوبائی دارالحکومتوں میں منتقل ہوگئیں تو نئے صوبے بھی پرانے مسائل کا شکار ہوجائیں گے۔
مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ، واضح اختیارات اور صوبائی آمدن میں طے شدہ حصہ ملنا چاہیے۔ بڑے شہروں کے لیے بااختیار میٹروپولیٹن حکومتیں بھی ضروری ہیں تاکہ وہ ٹرانسپورٹ، رہائش، صفائی، نکاسیٔ آب اور شہری ترقی کے مسائل مؤثر طریقے سے حل کرسکیں۔
پاکستان کو محدود تعداد میں نئے صوبوں سے فائدہ ہوسکتا ہے، مگر صرف نقشے پر نئی لکیریں کھینچنا کافی نہیں ہوگا۔ مقصد مزید گورنر، وزرا اور اسمبلیاں پیدا کرنا نہیں، بلکہ حکومت کو عوام کے قریب لانا، ترقی کو زیادہ منصفانہ بنانا اور وفاق کو مضبوط کرنا ہونا چاہیے۔ نئے صوبے حل کا ایک حصہ ہوسکتے ہیں، لیکن مضبوط ادارے، مالی ذمہ داری، بااختیار بلدیاتی نظام، مؤثر احتساب اور حقیقی جمہوریت اس سے کہیں زیادہ اہم ہوں گے۔

