اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی کی بنیادی وجہ دہشت گردی ہے، اور افغان طالبان حکومت یا تو اپنی سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے حملوں میں سہولت کار ہے یا اس سے چشم پوشی کر رہی ہے۔
انہوں نے ہفتہ وار بریفنگ میں مطالبہ کیا کہ طالبان حکومت تحریری یقین دہانی دے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، بصورت دیگر تعلقات اسی موجودہ سطح پر رہیں گے۔ترجمان کے مطابق پاکستان نے بی ایل اے اور ٹی ٹی پی سمیت دہشت گرد گروہوں کی کارروائیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اسی بریفنگ میں سندھ طاس معاہدے پر بھارت کے رویے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ پاکستان اپنے حصے کے پانی کے ایک قطرے پر بھی سمجھوتا نہیں کرے گا، جبکہ معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی کی کوئی شق موجود نہیں۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے سہولت کار اور ثالث دونوں کا کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ایران کے دو دورے کیے اور ایرانی قیادت سے سیکیورٹی امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ترجمان کے مطابق پاکستان اور چین اپنی سفارتی دوستی کے 75 سال مکمل ہونے پر تقریبات منا رہے ہیں، جبکہ وزیرِ اعظم شہباز شریف 23 سے 26 مئی کے دوران چین کا دورہ کریں گے جہاں وہ چینی قیادت سے ملاقاتیں اور بزنس ٹو بزنس کانفرنس میں شرکت کریں گے۔
دفترِ خارجہ نے یہ بھی کہا کہ 17 مئی کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود میں ڈرون حملوں کے واقعات پر پاکستان نے شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے، اور کہا ہے کہ حساس تنصیبات کو نشانہ بنانا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
ترجمان نے مسئلہ کشمیر پر مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے، جبکہ بھارت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور الزام تراشیوں کا بھی الزام عائد کیا گیا۔
دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان اور روس کے درمیان اسلحہ کنٹرول اور عالمی سلامتی پر بھی مشاورت ہوئی ہے، جس کا اگلا اجلاس 2027 میں اسلام آباد میں ہوگا۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان اپنی امن کوششوں، علاقائی سفارت کاری اور غیر ملکی شہریوں خصوصاً چینی شہریوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، جبکہ ملک میں چینی منصوبے بند ہونے کی خبریں درست نہیں۔
انہوں نے یو اے ای سے پاکستانیوں کی بے دخلی سے متعلق تاثر کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی انفرادی مسئلہ ہو تو اسے سفارتی چینلز کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہیں۔

