ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ سمجھوتا نہ ہونے کا اشارہ دے دیا

واشنگٹن (ایجنسیاں)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ سمجھوتا نہ ہونے کا اشارہ دے دیا جبکہ ان کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف کو امید ہے کہ ایران مذاکرات کے لیے قائل ہو جائے گا۔

کابینہ اجلاس میں صدر ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی کہ اگر جنگ بندی نہ ہوئی تو ایران پر بے رحمی سے حملے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران اپنے جوہری اہداف سے دست بردار نہیں ہوا تو یہ جنگ ان کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوگی، اور ایرانیوں کے پاس جنگ بندی کا موقع موجود ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران سمجھوتے کے لیے درخواست کر رہا ہے لیکن امریکہ فی الحال ایسا کرنے کے لیے تیار نہیں۔ امریکی نمائندہ خصوصی وٹکوف کے مطابق ایران جنگ کے خاتمے کا راستہ تلاش کر رہا ہے اور امریکہ نے امن معاہدے کے لیے 15 نکاتی تجاویز دے دی ہیں۔ وٹکوف نے کہا کہ ایران کے قائل ہونے کے مضبوط اشارے مل رہے ہیں اور اگر ایران قائل ہو گیا تو اس سے بہتر کوئی متبادل نہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایران کی فوجی صلاحیت کو ختم کرنے کا بھی دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایران کے ریڈار سسٹم، نیوی، فضائیہ، عسکری قوت اور مواصلاتی نظام کو تباہ کر دیا ہے۔ حملہ نہ کرنے کی صورت میں ایران دو تین ہفتوں میں ایٹمی ہتھیار بنا لیتا، لیکن اب ایران امریکہ کے ساتھ ڈیل چاہتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران مشرق وسطیٰ کے ممالک پر حملے کر رہا ہے، خلیجی ممالک پر بمباری کی اور خطے پر قبضے کے منصوبے بنا رہا تھا۔ انہوں نے منشیات کے سمندری راستے سے امریکہ پہنچنے میں 98 فیصد کمی کا بھی دعویٰ کیا اور کہا کہ ایران میں مطلوبہ نتائج توقع سے پہلے حاصل کر لیے گئے ہیں۔

“آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے لچک کا اشارہ”
صدر ٹرمپ نے ایران کو جمعے تک دی گئی ڈیڈلائن پر آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے لچک کا اشارہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ جمعے کو ڈیڈلائن ختم ہونے پر وہ وٹکوف، جے ڈی وینس اور جیرڈ کشنر سے مشورہ کریں گے، کیونکہ ابھی بہت وقت باقی ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایران کی آئل سپلائی پر قبضے کے آپشن کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ امریکہ کو آبنائے ہرمز کی بندش سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ امریکہ کے پاس سعودی عرب اور روس سے کافی تیل موجود ہے اور یہ مقدار جلد تین گنا ہو جائے گی۔

“جرمنی کو واضح پیغام”
صدر ٹرمپ نے جرمنی کو واضح پیغام دیا کہ اگر ایران کی جنگ جرمنی کی جنگ نہیں ہے تو یوکرین کی جنگ بھی امریکہ کی جنگ نہیں ہے۔ انہوں نے جرمن قیادت کی ایران جنگ میں تعاون نہ کرنے والی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔