لاہور (نمائندہ خصوصی) کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی نئی ہدایات پر عمل درآمد کرتے ہوئے 20 افغان ایم بی بی ایس طلبہ کو پاکستان سے واپسی کیلئےقانونی اور انتظامی کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی یکم ستمبر کو جاری ہدایات کے تحت افغان شہریوں کیلئے طبی و دندان سازی کے اداروں میں نئے داخلوں، طلبہ کی منتقلی اور ہجرت پر بھی تاحکمِ ثانی پابندی عائد کردی گئی ہے۔کے ای ایم یو نے 20 افغان ایم بی بی ایس طلبہ کو اسسٹنٹ رجسٹرار کے دفتر میں 24 گھنٹے کے اندر پیش ہوکر تمام قانونی اور انتظامی تقاضے مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
یونیورسٹی کے ریکارڈ کے مطابق ادارے سے 22 افغان شہری وابستہ ہیں، جن میں 20 زیرِتعلیم طلبہ جبکہ 2 حال ہی میں فارغ التحصیل ہوئے ہیں۔ متاثرہ طلبہ میں 7 آخری سال کے طالب علم بھی شامل ہیں جو اپنی طبی تعلیم مکمل کرنے کے قریب تھے۔
یونیورسٹی حکام کے مطابق پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی ہدایات کے تحت طلبہ کے لیے عدم اعتراض کے سرٹیفکیٹ، تعلیمی ریکارڈ کی تصدیق، امیگریشن سے متعلق دستاویزات اور دیگر ادارہ جاتی کارروائی مکمل کی جارہی ہے۔ طلبہ کو مقررہ مدت کے اندر تمام لازمی کارروائی مکمل کرنے کے لیے انتظامیہ سے رابطے میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی ہدایات کا اطلاق صرف کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی تک محدود نہیں بلکہ ملک بھر کے تسلیم شدہ طبی اور دندان سازی کے اداروں پر ہوگا۔طبی اداروں کو افغان شہریوں کے نئے داخلوں، طلبہ کی منتقلی اور ہجرت کی درخواستوں پر فوری طور پر پابندی پر عمل درآمد کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ متاثرہ طلبہ کے تعلیمی ریکارڈ، امتحانی نتائج اور دیگر دستاویزات بھی مکمل کررہی ہے تاکہ قابلِ اطلاق ضوابط کے تحت ان کی تعلیم کی منتقلی یا آئندہ تعلیمی معاملات میں جہاں ممکن ہو سہولت فراہم کی جاسکے۔
دوسری جانب ہاسٹل انتظامیہ نے بھی متاثرہ طلبہ کے انخلا کے لیے معمول کی کارروائی شروع کردی ہے۔ طلبہ کو ہاسٹل کی کلیئرنس، یونیورسٹی کی جانب سے فراہم کی گئی اشیاء کی واپسی، واجبات کی ادائیگی، کتب خانے اور تجربہ گاہ سے کلیئرنس لینے کے بعد کمرے خالی کرنے ہوں گے۔
حکام کے مطابق اس عمل کو تعلیمی تادیبی کارروائی کے بجائے انتظامی اور ضابطہ جاتی اقدام کے طور پر انجام دیا جارہا ہے اور یونیورسٹیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ہر طالب علم کی تعلیمی پیش رفت کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھا جائے۔
دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے فیصلے کو ’’واضح طور پر امتیازی اور من مانا‘‘ قرار دیتے ہوئے حکام پر زور دیا ہے کہ افغان طلبہ، بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کی اجازت دینے کیلئے انسانی ہمدردی پر مبنی عملی حل اختیار کیا جائے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جنوبی ایشیا دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس فیصلے کے اثرات خواتین طلبہ کے لیے خاص طور پر سنگین ہیں، کیونکہ افغانستان میں طالبان کی جانب سے خواتین پر عائد پابندیوں کے باعث ان میں سے کئی پہلے ہی اعلیٰ تعلیم کے مواقع سے محروم ہیں۔
بیان کے مطابق ان طلبہ کو اب اپنی تعلیم اور پیشہ ورانہ مستقبل کے لیے دستیاب چند باقی راستوں میں سے ایک بھی کھونے کا خطرہ لاحق ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ پاکستان پر بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت قومی شناخت کی بنیاد پر امتیاز کے بغیر تعلیم کے حق کو یقینی بنانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
تنظیم نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا کہ افغان طلبہ، خصوصاً خواتین اور لڑکیوں کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کی اجازت دینے کے لیے انسانی اور قابلِ عمل حل اختیار کیا جائے۔اس فیصلے نے دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعاون اور پیشہ ورانہ اسناد کی منظوری کے مستقبل کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
فی الحال کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں ہونے والی کارروائی پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی یکم ستمبر کی ہدایات پر عمل درآمد کے ابتدائی نمایاں اقدامات میں شامل ہے، جبکہ ملک بھر کے دیگر طبی اور دندان سازی کے اداروں میں بھی اس پر عمل درآمد شروع ہونے کا امکان ہے۔

