آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹے بیٹیوں، پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں، بہووں دامادوں کے ساتھ دوپہر کے کھانے پر تبادلہ خیال کا دن ۔ اپنے گھر کو مستحکم کرنے کا ہفتہ وار لائحہ عمل۔ساتھ ہی یہ درخواست بھی ہوتی ہے کہ ہر اتوار کی شام کچھ وقت محلے داری کیلئے بھی نکالیں ایک مملکت فرد خاندان محلے شہر صوبے کے ستونوں پر ہی قائم ہوتی ہے۔ فرد خاندان اور محلہ اسکی بنیادی وحدتیں ہیں۔ مشورہ یہ ہوتا ہے کہ نماز عصر کے بعد اپنے محلے والوں سے ملنے کا اہتمام کریں۔
آج پانچ جولائی بھی ہے جسے 1977ءسے پاکستان کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت ملی۔1940ء کی دہائی میں آزاد ہونیوالے ملکوں میں زیادہ تر پارلیمانی نظام رائج رہا۔ کہیں طاقتور الیکشن کمیشن، آزاد عدالتوں، ٹریبونلز کی موجودگی سے ایک فرد ایک ووٹ کا تجربہ بہت کامیاب رہا ۔حکمران ووٹ کے ذریعے تبدیل ہوئے ۔قومی سیاسی پارٹیوں نے بھی اپنے آپ کو جمہوری بنیادوں پر استوار کیا۔ اس کیلئے قوموں کو طویل جدوجہد کرنا پڑی۔ پارٹی قیادت بھی کارکنوں کے ووٹ سے ہی بدلی گئی۔ اس میں موروثیت کا تصور نہیں رہا لیکن جہاں بادشاہتیں رہیں وہاں شہزادے شہزادیاں بھی رہے ہیں ۔اسی طرح جاگیرداری ،پیری مخدومی میں بھی موروثیت چلتی ہے۔جمہوری نظام کو بنی نوع انسان نے بڑی تحقیق کے بعد ایک قابل عمل نظام بنایا ہے ۔قیام پاکستان کیلئے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے نتیجہ خیز تحریک چلائی اور جنوبی ایشیا کے مسلم اکثریتی علاقوں میں پاکستان وجود میں آیا ۔قائداعظم اور دوسرے بانیان پاکستان کی اس دوران ساری تقریریں مسلم لیگ کی مجالس عاملہ کے فیصلے ، قراردادیں دیکھ لیں سب ایک جمہوری نظام کی حکمت عملی ہی دیتے رہے ہیں۔ جہاں سب باشندے برابر کے حقوق رکھیں گے حکومتیں الیکشن کے ذریعے تبدیل ہوں گی ۔
پاکستان کے قیام کو بھارت نے دل سے کبھی قبول نہیں کیا اکھنڈ بھارت کا فلسفہ حاوی رہا ۔ اسلئے نو آزادپاکستان کی سلامتی کو خطرات شروع سے ہی لاحق رہے ہیں۔ اسی عنصر نے مضبوط مرکز اور اپنے گھوڑے تیار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یہیں سے سیاسی اکابرین اور مسلح افواج کے درمیان کشمکش شروع ہوئی۔ پاکستان میں جمہوری نظام کو تسلسل نہیں دیا جا سکا۔ سات اکتوبر 1958ء۔ 25مارچ 1969ء۔ پانچ جولائی 1977ء۔ 12اکتوبر 1999ء۔ جمہوریت سے انحراف کے سیاہ دن رہے ہیں۔ اسباب کچھ بھی ہوں جمہوری پارلیمانی عمل کو اس سے نقصان پہنچتا رہا ہے۔ آج پانچ جولائی 2026ہے ۔پانچ جولائی1977ء سے آج 49 سال ہو رہے ہیں۔
آج اپنی اولادوں سے انتہائی درد مند دل کیساتھ بات کریں پورے 79سال کا جائزہ بھی لیں اور ان 49 سال کا خاص طور پر۔ فیلڈ مارشل ایوب خان نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ ملک کی بہتری کیلئے مارشل نافذ کیا گیا لیکن کیا اسکے نتیجے میں ملک مستحکم ہوا۔ انہوں نے رخصت ہوتے وقت اپنے 1962 کے آئین کے مطابق استعفیٰ قومی اسمبلی کے اسپیکر کو نہیں دیا بلکہ اپنے کمانڈر ان چیف کے سپرد کیا۔ جنرل یحییٰ خان کا دور اگرچہ 1970ءکے آزادانہ منصفانہ الیکشن کیلئے یاد رکھا جاتا ہے اور ون یونٹ توڑ کر صوبے بنانے کیلئے بھی۔ لیکن اس میں سقوط مشرقی پاکستان کا عظیم سانحہ برپا ہواہے۔ جنرل یحییٰ خان لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت حکومت کر رہے تھے ۔کوئی آئین نہیں تھا اسلئے پورا اقتدار ایک شخص کے حوالے کرنا پڑا۔
شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور کو آپ مکمل مثالی جمہوری یا قانون کی حکمرانی نہیں کہہ سکتے۔ مگر پھر بھی انہوں نے جمہوری روایات کو بروئے کار لاتے ہوئے 1973 کا متفقہ آئین دیا جو آج بھی کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔ جنگی قیدی ہندوستان کی قید سے واپس لائے۔ ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی۔ قادیانیوں کو پارلیمنٹ کے ذریعے غیر مسلم قرار دلوایا۔ خلیج اور مشرق وسطیٰ میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد کیلئے روزگار کا اہتمام کیا۔ ایک مثالی اسلامی سربراہ کانفرنس منعقد کی ۔لیکن 1977 کے انتخابات میں بلا مقابلہ منتخب ہونے کے سلسلے نے انتخابات کو آزادانہ رہنے نہیں دیا۔ اسکے باوجود ایک متفقہ آئین منظور ہو چکا تھا اس میں آنیوالی حکومتیں بھی جمہوری ڈھانچہ مضبوط کر سکتی تھیں۔جس طرح سات اکتوبر 1958ءمیں جاری جمہوری عمل میں رکاوٹ ڈالی اسی طرح پانچ جولائی 1977ءنے بھی پارلیمانی تسلسل کو معطل کر دیا۔ ملکی اور غیر ملکی تجزیے یہی کہتے ہیں کہ جنرل ضیا الحق نے ملک کا سیاسی مزاج اور جمہوری شعور مسخ کرنے کیلئے مسلسل اقدامات کیے۔ آئین سرد خانے میں رہا ۔
اور پھر آخر میں 1985ءکے غیر جماعتی انتخابات ایک ایسا موڑ ہے کہ اس کے بعد جاگیردار، پیر، سردار سیاسی افق پر غالب آگئے ایک فرد ایک ووٹ کا شعور ختم ہو گیا ۔یہیں سے منتخب رہنماؤں کو مکمل اقتدار سونپنے کے بجائے اقتدار میں شراکت دینے کا سلسلہ شروع کیا گیا ۔ان دنوں تو ہم تاریخ کے طالب علم ایک بالکل ہی دلچسپ اور منفرد سیاسی منظر نامہ دیکھ رہے ہیں کہ پانچ جولائی 1977 کے مارشل لا کے متاثرین اور اس مارشل لا کے مستفیدین جو پانچ جولائی 1977 سے 2007 تک آپس میں برسر پیکار رہے ہیں ۔اب ایک ہی حکومت میں شامل ہیں ۔مرکز میں مسلم لیگ ن حکمران ہے پنجاب میں بھی ۔سندھ بلوچستان میں پی پی پی۔ اب گلگت بلتستان میں بھی پی پی کی حکومت ہے آزاد جموں کشمیر میں بھی۔
نئی نسل کے ذہین نوجوان بڑی تعداد میں ترکِ وطن کر رہے ہیں۔ انکے روزگار کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ میرٹ پیش نظر نہیں ہے قانون کی حکمرانی یکساں نہیں ہے۔ جان و مال کے تحفظ کا سسٹم متاثر ہو چکا ہے ۔آئے دن سانحے ہوتے رہتے ہیں ۔مقامی حکومتیں مالی طور پر بے اختیار ہیں ۔اپنے قدرتی معدنی اور افرادی وسائل کوبروئے کار لانے کے بجائے وزرائے خزانہ درآمد کیے جاتے ہیں۔ انکے پاس صرف اور صرف آئی ایم ایف کے قرضے کا فارمولا ہوتا ہے۔ ان کے دو تین سال واشنگٹن اسلام آباد کے درمیان چکر لگانے میں گزر جاتے ہیں۔ پانچ جولائی 1977ءکو پاکستان کی آبادی ساڑھے سات کروڑ تھی اور اب 25کروڑ ہے۔ ڈالر 11روپے کا تھا،اب 300ڈالر کا ہے1977ءمیں غربت میں کمی بتائی جا رہی تھی۔ اب 100میں سے 45غربت کی لکیر سے نیچے ہیں۔ برآمدات اور درآمدات میں بھی بہت فاصلہ بڑھ گیا ہے ۔
تاریخ اور جغرافیہ ہم سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہم سنجیدگی سے غور کریں کہ یہ اقتصادی عدم توازن، طبقاتی تضاد اور ترقی معکوس کیا سات اکتوبر 1958 ۔25 مارچ 1969 ء۔ پانچ جولائی 1977ء۔ 12 اکتوبر 1999 ء کی مداخلتوں کی وجہ سے ہے یا قومی سیاسی پارٹیوں میں موروثیت کے باعث۔

