پاکستان میں ایڈز کے حوالے سے تھوڑے عرصے کے بعد کوئی نہ کوئی انہونی خبر سامنے آ جاتی ہے۔ گذشتہ ہفتے جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال (نشتر ہسپتال)کے حوالے سے خبر سامنے آئی جس نے چونکا دیا۔ خبر نہیں ایک بم تھا کہ ایڈز کے مریض کی ایک ایسے آپریشن تھیٹر میں سرجری کی گئی جہاں اس دن یا اس وقت سات دیگر مریضوں کی بھی سرجری ہوئی۔ ڈاکٹروں کے بقول مریض کے پیٹ میں تکلیف کی وجہ سے ایمرجنسی میں آپریشن کرنا پڑا۔ ایڈز کا مریض ہونے کا بعد میں پتہ چلا۔ جبکہ ”باخبر لوگوں“کا کہنا ہے کہ ایڈز ٹیسٹ پازیٹو آ چکا تھا آپریشن تھیٹر میں کیوں نہیں بتایا گیا؟ (وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کے لئے اس معاملہ کا سراغ لگانا ضروری ہے)۔ نشتر میڈیکل ہسپتال جہاں ایک بہت بڑا میڈیکل کالج بھی ہے ایڈز پھیلانے میں پہلے بھی ملوث رہ چکا ہے۔ 2024ء میں اسی ہسپتال کی ڈائیلیسز مشینوں کے ذریعے ایڈز پھیلنے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ جب ڈائیلیسز کروانے والے 40 سالہ مریض کی موت کے بعد یہ سامنے آیا کہ وہ ایڈز کا مریض تھا، جس کے بعد وہاں پر ڈائیلیسز کرانے والے 270افراد، ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کی بلڈ سکریننگ کی گئی اور 31افراد میں ایڈز کا مرض پایا گیا (جن میں گھریلو خانہ دار خواتین بھی تھیں)۔ آخر کیا قصور تھا ان لوگوں کا جو کسی قسم کی ”غیر فطری حرکت“، کسی نشے کے استعمال یا کسی دیگر غیر اخلاقی حرکت میں ملوث نہیں تھے۔ لیکن اپنی بیماری کا علاج کراتے کراتے گردوں کو زندگی دینے والی ڈائیلیسز مشینوں کے ذریعے ان کے اندر ”موت انجیکٹ“ کر دی گئی۔ ایسے واقعات کے بعد انکوائری کمیٹیاں بٹھائی جاتی ہیں جو تاریخ پر تاریخ دیتی رہتی ہیں۔ تاکہ پاکستانی عوام جن کی یاداشت بہت کمزور ہے سب بھول جائیں اور پھر سب کچھ پہلے جیسا ”ہرا ہرا“ ہو جائے۔ نشتر ہسپتال میں 2024ء میں ہونے والے اس ڈائیلیسز سکینڈل کے بعد اگر کوئی سخت سزا سنا دی جاتی۔ تو یہ نوبت نہ آتی کہ ایڈز کے مریض کو دوسرے مریضوں کے ساتھ آپریشن تھیٹر میں پہنچا دیا جاتا۔ میرے کئی آپریشن ہو چکے ہیں میں نے دیکھا ہے کہ ایک ہی آپریشن تھیٹر کے اندر تین۔چار مختلف آپریشن ٹیبلز پر مریضوں کے بیک وقت آپریشن ہو رہے ہوتے ہیں اور سینئر ڈاکٹر یا سینئر سرجن بیک وقت سب کی نگرانی کر رہے ہوتے ہیں۔ کسی ”ٹیبل“پر مریض کو تیار کیا جا رہا ہوتا ہے اور کہیں مریض کو ”آپریشن کے بعد سیا“ جا رہا ہوتا ہے۔ایسے حالات میں ایک ایڈز زدہ مریض دوسروں میں موت بانٹنے کا ذریعہ نہیں بنے گا تو اور کیا ہو گا۔یقینا ایسا صرف پاکستان میں ہی ممکن ہے جہاں پر سہولتیں کم اور مریض زیادہ ہیں۔ نشتر ہسپتال جنوبی پنجاب کا بہترین ہسپتال کہلانے کی شہرت رکھنے کی وجہ سے وہاں رش بھی زیادہ ہوتا ہے اور ویسے بھی پاکستان کے عوام جس مالی بدحالی کا شکار ہو چکے ہیں اور غربت کے جس مقام پر پہنچائے جا چکے ہیں وہ اب سرکاری ہسپتال میں ہی ”مفت علاج“کرا سکتے ہیں چاہے ”وہاں سے اسے بدلے میں ایڈز ہی ملے“۔ پنجاب میں صرف نشتر ہسپتال ہی ایڈز نہیں بانٹ رہا۔ تونسہ میں کچھ عرصہ پہلے رپورٹ سامنے آئی تھی کہ وہاں بچوں کے اندر ایڈز پھیل رہی ہے،جس کی وجہ تحصیل ہسپتال میں علاج کے لئے جانے والے بچوں پر استعمال کی گئی سرنجیز کو بار بار استعمال کرنا تھا۔گزشتہ ماہ صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے ایک پریس کانفرنس میں یہ اعتراف کیا کہ تونسہ میں 334 افراد میں ایڈز کی تشخیص ہوئی ہے، جن میں 331چھوٹی عمر کے بچے ہیں۔ یہ سارا کچھ غیر ملکی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد شروع ہوا ورنہ ایک سال سے ”خاموشی“ تھی۔ یہ بھولنے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ سرنجوں کے باربار استعمال سے ایک آٹھ سالہ بچے کی موت ایڈز میں مبتلا ہونے سے ہوئی تھی، جس کے بعد بچوں کے ایڈز میں مبتلا ہونے کا معاملہ ڈیڑھ سال پہلے سامنے آیا تھا۔ایڈز کے معاملے میں سندھ بھی کسی سے پیچھے نہیں،2019ء میں رتوڈیرو(لاڑکانہ) میں ایک ہزار افراد ایڈز میں مبتلا پائے گئے، جن میں 85فیصد بچے تھے جن کی عمریں پانچ سال سے کم تھیں۔ یہ سب بچے سرنجوں کے بار بار استعمال ہونے کی وجہ سے ایڈز میں مبتلا ہوئے۔
پاکستان کے بارے ایک ادارہ کا کہنا ہے کہ 38فیصد ڈاکٹر سرنجوں کو دوبارہ استعمال کرتے ہیں اور صرف ایڈز نہیں ہیپاٹائٹس کے 44فیصد مریض سرنجوں کے دوبارہ استعمال کی وجہ سے ہیپاٹائٹس کا شکار ہوتے ہیں۔ ایڈز کے مریض صرف عام معاشرے میں۔ نہیں بلکہ جیلوں میں بھی ہیں۔ پنجاب کی 43جیلوں میں ایڈز کے 673مریض موجود ہیں۔ سب سے زیادہ 148 ایڈز کے مریض اڈیالہ جیل میں ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں، غیر قانونی بلڈ بینکوں سے سکریننگ کے بغیر خون منتقلی، سرنجوں اور ڈرپس کا باربار استعمال، منشیات استعمال کرنے والوں میں ایک ہی سرنج سے متعدد افراد کا منشیات کا استعمال، دانتوں کے ڈاکٹروں کے آلات کا بار بار استعمال، حجام کی دکانوں پر بلیڈ کا باربار استعمال پہلے ہیپاٹائٹس پھیلاتے تھے اب ہیپاٹائٹس کے ساتھ ساتھ ایڈز بھی پھیلا رہے ہیں۔پاکستان میں ایڈز کے حوالے سے آج صورتحال بہت الارمنگ ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد ایک 108400ہے (جبکہ ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد ساڑھے تین لاکھ بتائی جا رہی ہے)۔ پنجاب میں ایڈز کے 45 ہزار ، صرف لاہور میں 10ہزار، فیصل آباد پانچ ہزار، ملتان تین ہزار، سرگودھا اور گجرات2800- 2800، ننکانہ صاحب میں یہ تعداد 2000ہے۔ خیبرپختونخوا میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 39702 بتائی جاتی ہے،جس میں صرف پشاور میں 1877مریض ہیں۔ سندھ میں حیران کن طور پہ اس رپورٹ میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 15639 بتائی گئی ہے(جبکہ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وہاں یہ تعداد کہیں زیادہ ہے)۔ رواں سال سندھ میں ہر مہینے ایڈز کے ایک ہزار نئے کیس سامنے آ رہے ہیں۔ کراچی میں بھی ایڈز کے مریضوں کی بہت بڑی تعداد ہے۔ بلوچستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 3303ہے۔ اس وقت پاکستان میں ایڈز کے سب سے زیادہ مریض پنجاب اور سندھ میں ہیں، کیونکہ جو لوگ اپنے گھروں سے باہر ”غیر قانونی رشتوں“میں ملوث ہوتے ہیں وہ اپنے گھر تک ایڈز لے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس عذاب سے ہمیں محفوظ رکھے۔

