پاکستان کرکٹ ٹیم نے ہوم گراؤنڈز پر آسٹریلین کرکٹ ٹیم سے ایک روزہ میچوں کی سیریز2-1سے جیتی اور فتح کا نعرہ لگاتے ہوئے یہ بھی یاد دلایا گیا ہے کہ یہ مسلسل تیسری بار ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا کو ایک روزہ سیریز ہرائی۔اس سے یاد آیا کہ پہلے بھی اپنی ملکی وکٹوں کو سپن باؤلنگ کے لئے بہت ہی سازگار بنایا اور جیت کا سہرا باندھا،اس کے بعد تو یہی وتیرہ اختیار کر لیا گیا کہ ہوم سیریز میں سپن وکٹوں پر ہی انحصار کیا گیا، اسے حکمت عملی کہیں یا ناقص انتظام، جس کی بدولت ملکی نوجوانوں کے مستقبل کو بھی داؤ پر لگا دیا گیا، متعدد اچھے کھلاڑی نظر انداز کئے گئے اور کئی ایک ابھرتے کھلاڑیوں کے کھیل کو برباد کیا۔
ماہرین کرکٹ تو کھیل کے رموز کے حوالے اور کھلاڑیوں کی کارکردگی پر اپنے اپنے انداز سے بات کر رہے ہیں لیکن مجھے تو بورڈ والوں پر مسلط پیر تسمہ پا حضرات کی حکمت عملی اور عقل مندی پر بات کرنا ہے۔ کرکٹ ٹیم کے مکمل مدارا لمہام عاقب جاوید اور چیف کوچ کا دعویٰ ہے کہ وہ ورلڈکپ کے لئے ٹیم تیار کر رہے ہیں، میرا یقین ہے کہ ان کی حرکات کے بعد تو آئندہ شاہین ایک بار پھر پہلے راؤنڈ ہی میں باہر ہوں گے کہ یہ حضرات نہ صرف اپنی غلط حکمت عملی،بلکہ تعصب اور گروہ بندی کی وجہ سے سینئر کھلاڑیوں کے در پے آزار ہیں،بلکہ ابھرتے نوجوان کھلاڑیوں کو غلط ماحول اور غلط مواقع پر کھلا کر ان کے مستقبل بھی برباد کر رہے ہیں، مقصد غالباً یہ ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کو ابتدا ہی میں مایوس کر دیا جائے اور صرف ان کھلاڑیوں کو موقع دیا جائے جن کا تعلق ان کے گروپ سے ہے یا جو پھر پرچی کے حامل اور خوشامدی ہیں۔یہ حضرات رضوان کو باہر بٹھانے پر کامیاب ہو گئے اگرچہ بابر اعظم گلے میں ہڈی بن کر اٹکا ہوا ہے۔
میں کسی خاص کھلاڑی کا حمایتی یا مخالف نہیں ہوں، میرے لئے میرے ملک کی عزت اور کھیل مقدم ہے جسے یہ لوگ برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں، آگے بڑھنے سے قبل یہ سوال پوچھنا ہے کہ بنگلہ دیش کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں سعود شکیل کی ٹیم میں جگہ نہ ہونے کے باوجود پہلے اس کے لئے بابر اعظم اور دوسری بار امام الحق کو باہر بٹھا کر عبداللہ فضل جیسے ابھرتے جارح بلے باز کو برباد کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی، خصوصی طور پر دوسرے ٹیسٹ میں سعود شکیل کے لئے نہ صرف امام الحق جو ریگولر اوپنر ہے کو باہر بٹھا دیا گیا بلکہ اذان اور فضل سے اننگ شروع کرا کے ان کے کھاتے میں بھی بدنامی لکھ دی گئی،حالانکہ پہلے ٹیسٹ میچ میں ہر دو کی کارکردگی ان کے بہتر مستقبل کی نشاندہی کر رہی تھی، اس کے علاوہ یہ سوال بالکل درست ہے جو سلمان علی آغا کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی مسلسل ناکامی کے باوجود نہ صرف اسے ٹی20کا کپتان برقرار رکھا گیا بلکہ حالیہ ایک روزہ سیریز میں نائب کپتان بنا دیا گیا ہے اس کی کارکردگی کا پول بھی کھل گیا اور سب کے سامنے ہے۔اسی طرح فاسٹ باؤلنگ کے شعبہ میں نسیم شاہ سے لے کر150 کلو میٹر کی رفتار تک باؤلنگ کرنے والے نوجوانوں پر پھر سے حارث رؤف اور کپتان شاہین آفریدی ہی کو ترجیح دی گئی یہ سب ظاہر اور سب جانتے ہیں۔ماہرین بات بھی کر رہے ہیں لیکن مجھے آج مستقبل کی بہتر حکمت عملی کے نام پر بدترین پالیسی کا ذکر کرنا ہے، جس کی وجہ سے سینئر اور ابھرتے نوجوان کھلاڑیوں کا مستقبل بھی تاریک ہو رہا ہے۔
وکٹوں کی تیاری اور مختلف ممالک اور موسموں کی صورتحال کی روشنی میں کھلاڑیوں کی تیاری کا ذکر ہر بار ہوتا ہے لیکن اس کے لئے آج تک معقول اور بہتر تیاری نہیں کی گئی۔ ہمارے دور سے اب تک یہ بات ہوتی چلی آ رہی ہے کہ ہمیں اپنے ملک میں ایسی وکٹوں کی ضرورت ہے جو دوسرے ممالک سے مماثل اور موسم کے لحاظ سے ہوں، ان کے لئے یہ تجویز ہمیشہ رہی کہ کراچی، لاہور اور راولپنڈی کے ساتھ ساتھ ایبٹ آباد، مری اور گوادر جیسے مقامات پر سٹیڈیم اور وکٹیں تیار کی جائیں تاکہ یہ سب مختلف ہوں اور دنیا کے مختلف ممالک کی وکٹوں کے مطابق ہو سکیں۔ مقصد یہ کہ ہوم سیریز ایسی وکٹوں اور مقام پر ہوں گی تو کھلاڑیوں کو مختلف ماحول اور وکٹوں پر کھیلنے کا تجربہ ہو گا اور وہ غیر ملکی ٹورز کے موقع پر گھبراہٹ کا شکار نہ ہوں گے لیکن آج تک اس تجویز پر عمل نہیں ہو سکا،اُلٹا مہمان ٹیموں کی آمد کے وقت ہم نے سپن وکٹیں تیار کرا کے سیریز یا میچ جیتنے کی کوششیں کیں۔
اس حکمت عملی کی وجہ سے سب سے بڑا نقصان ابھرتے نوجوان کھلاڑیوں کو ہوا جس کا اندازہ انڈر19اور انڈر21 کی ٹیموں کی دوسرے ممالک میں کارکردگی ہے، آج کے چیف کوچ سرفراز احمد اس بات کا جواب دے سکتے ہیں کہ خود ان کی نگرانی میں ورلڈکپ میں جونیئر کھلاڑیوں کی کارکردگی کیا رہی، کیا وہ سیمی فائنل تک رسائی پا سکے، میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت کرکٹ بورڈ کے منظور نظر کرتا دھرتا حضرات نہ صرف سینئر کھلاڑیوں کو ناکام بنا اور بدنام کر کے ان کا مستقبل تباہ کرنا چاہتے ہیں،بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کو بھی مواقع نہیں دینا چاہتے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے معمول کے مطابق خراب کارکردگی والے کھلاڑیوں کی جگہ ایک ایک ابھرتے نوجوان کو موقع دینے کی بجائے بیک وقت آدھی ٹیم کو تبدیل کرنا کیسی حکمت عملی ہے۔ حالیہ سیریز میں سب نوجوان کھلاڑی ناکام ثابت ہوئے ہیں، حتیٰ کہ جس غوری کو رضوان پر ترجیح دی گئی وہ بھی پہلے میچ کے بعد کارکردگی نہ دکھا سکا، میں تو کہوں گا کہ پہلے میچ میں بابر اعظم کی رفاقت اور تعاون نے بہتر کام کیا۔
مجھے یقین ہے کہ موجودہ منتظم حضرات کی حکمت عملی بالکل غلط اور نوجوانوں کے لئے تباہ کن ہے۔ آسٹریلیا کی بی ٹیم نے دوسرے ایک روزہ میں یہ ثابت کیا کہ اچھی ٹیم ہو تو سپن والی حکمت عملی بھی ناکام ہو جاتی ہے۔آسٹریلیا کی ٹیم میں گو سینئر کھلاڑی نہیں تھے لیکن انتظامیہ نے سابقہ تجربے کی روشنی میں ٹیم میں سپن اٹیک کی بھرمار کر دی اور شاہین یہ سیریز مشکل سے جیت سکے اور اس سیریز سے کئی کھلاڑیوں کے لئے سوالیہ نشان لگ گیا۔
ویسے شائقین کرکٹ پوچھ رہے ہیں کہ فخر زمان کا قصور کیا ہے جسے گروہ بندی کی نذر کیا جاتا ہے بہتر ہو گا کہ اب فخر اور رضوان کی طرح بابر اعظم کا کانٹا بھی نکال دیں جو آپ سے نگلا نہیں جا رہا۔

