اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے لیے انکم ٹیکس کی مختلف شرحوں میں کمی اور سرچارج ٹیکس ختم کرنے کی تجویز پیش کر دی۔
قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ نے کہا کہ تنخواہ دار افراد کی چار آمدنی سلیبز پر انکم ٹیکس کی شرح کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ان کے مطابق سالانہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے آمدن پر ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
انہوں نے کہا کہ سالانہ 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے آمدن پر ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد، سالانہ 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے آمدن پر 35 فیصد سے کم کرکے 29 فیصد، جبکہ سالانہ 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے آمدن پر ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 32 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ملازمت پیشہ افراد کو مزید ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ سالانہ 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے آمدن رکھنے والوں کے چھ سلیبز پر عائد سپر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ سالانہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

