اسلام آباد:پارلیمنٹ لاجز بل پر سینیٹر کامل علی آغا پاور ڈویژن پر برس پڑے

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کے اجلاس میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور بھاری بلوں پر سخت بحث دیکھنے میں آئی، جہاں سینیٹر کامل علی آغا نے پاور ڈویژن پر شدید تنقید کی۔

کامل علی آغا نے اجلاس میں بتایا کہ ان کے پارلیمنٹ لاجز کا 102 یونٹس کا بجلی بل 11 ہزار 800 روپے آیا ہے، جس میں استعمال شدہ بجلی کی قیمت تقریباً 3 ہزار 300 جبکہ ساڑھے 8 ہزار روپے کے ٹیکسز شامل ہیں۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایسے نظام میں صارفین کو کنزیومر نہیں بلکہ”بکرا” کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔اس پر پاور ڈویژن کے ایڈیشنل سیکریٹری نے جواب دیا کہ موجودہ صورتحال میں نظام دباؤ کا شکار ہے اور سولر سسٹم کے بڑھنے سے لوڈ اور سلیب کے معاملات متاثر ہوئے ہیں۔

اجلاس کے چیئرمین سیف اللہ ابڑو نے بھی اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ کہیں ٹیکس اور کہیں اضافی چارجز لگ رہے ہیں جبکہ ملک میں بجلی کے نظام میں عدم توازن پایا جاتا ہے۔

اجلاس کے دوران یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اگر ملک میں بجلی سرپلس ہے تو لوڈشیڈنگ کیوں جاری ہے، جس پر حکام نے جواب دیا کہ گیس (ایل این جی) کی کمی کے باعث بجلی کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔کمیٹی ارکان نے بجلی کے بلنگ نظام، ٹیکسز اور لوڈشیڈنگ کے مسائل پر مزید وضاحت طلب کرتے ہوئے نظام میں شفافیت کا مطالبہ کیا۔