فلوریڈا ( خبر ایجنسیاں)امریکی ریاست فلوریڈا میں دو بنگلادیشی پی ایچ ڈی طلبہ کے قتل کے کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں نہ صرف قتل کی تصدیق ہو چکی ہے بلکہ ملزم کے مبینہ اقدامات اور تحقیقات سے متعلق کئی سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔
پولیس کے مطابق جمیل لیمون اور ناہیدہ سلطانہ برسٹی نامی دو طلبہ اس واقعے میں ہلاک ہوئے، جبکہ کیس میں 26 سالہ حشام صالح ابو غربہ کو گرفتار کیا گیا ہے جو مقتول جمیل کا روم میٹ تھا۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزم نے واردات سے قبل مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ سے لاش چھپانے اور ٹھکانے لگانے کے بارے میں سوالات کیے تھے، جس نے کیس کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔جمیل لیمون کی لاش کچرے کے تھیلے سے برآمد ہوئی، جبکہ ناہیدہ برسٹی تاحال لاپتہ رہنے کے بعد بعد ازاں ان کے قتل کی تصدیق ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کر دی گئی۔
اہلخانہ کے مطابق ناہیدہ کی اپنے والد سے آخری گفتگو 16 اپریل کو ہوئی تھی، جس میں وہ یونیورسٹی اور لیب ورک میں مصروف ہونے کی بات کر رہی تھیں۔ والد نے بتایا کہ بیٹی کی آواز خوشگوار تھی اور وہ جلد وطن واپس آنے والی تھیں، تاہم بعد میں ان کی گمشدگی اور قتل کی اطلاع دی گئی۔
خاندان نے بتایا کہ ناہیدہ ایک فون کال کے بعد باہر گئیں اور پھر واپس نہیں آئیں۔ بعد ازاں امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اہلخانہ کو ان کی موت کی اطلاع دی۔ناہیدہ کے والد نے بیٹی کی لاش کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف ایک بار اپنی بیٹی کا چہرہ دیکھنا چاہتے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق ایک گواہ نے ملزم کو کچرا کمپیکٹر کے قریب مشکوک سرگرمی میں دیکھا، جبکہ جائے وقوعہ سے شناختی کارڈ اور دیگر شواہد بھی برآمد ہوئے ہیں۔پولیس کے مطابق ملزم نے ابتدا میں انکار کیا لیکن بعد میں بیانات میں تضاد سامنے آیا۔ اس کے قبضے سے متعلق شواہد اور لوکیشن ڈیٹا کی جانچ جاری ہے۔
دونوں طلبہ کے اہلخانہ نے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے اور لاشیں واپس کی جائیں۔تحقیقات ابھی جاری ہیں جبکہ ملزم اس وقت بغیر ضمانت جیل میں قید ہے اور کیس کی مزید سماعت آئندہ دنوں میں متوقع ہے۔

