اصل خبر یا سنسنی؟ ہماری ترجیحات کا قومی المیہ

خیبر پختونخوا میں روز روز کے دھماکے، قانون نافذ کرنیوالے اہلکاروں سمیت عام شہریوں کی شہادتیں، زخمیوں کی چیخ و پکار اور اجڑتے گھروں کی داستانیں شاید اب ہمارے میڈیا کیلئےکوئی خاص خبر نہیں رہیں۔ مسلسل بدامنی نے انسانی المیوں کو اس حد تک معمول بنا دیا ہے کہ لاشیں اٹھنے، بازار اجڑنے اور خاندان برباد ہونے کی خبریں چند لمحوں کیلئے اسکرین پر آتی ہیں؛ ایک ٹکر چلتا ہے، چند منٹ کی رپورٹ آتی ہے، پھر کوئی نیا شور، اسکینڈل یا سنسنی اسکرین پر قبضہ کر لیتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے پختونخوا کے عوام کا خون خبر نہیں، محض پس منظر ہے۔

صوبے بھر میں علما اور سیاسی زعما کی ٹارگٹ کلنگ، خصوصاً بنوں اور ملحقہ علاقوں میں پولیس تھانوں، ایف سی ہیڈکوارٹرز اور چھاؤنیوں پر خودکش حملے، سرکاری ملازمین کے اغوا اور بدامنی کے متعدد واقعات بھی قومی ضمیر کو جھنجھوڑنے میں ناکام رہے۔ گزشتہ روز لکی مروت کے سرائے نورنگ بازار میں ہونے والا دھماکا بھی اسی بے حسی کی نذر ہوا، جس میں پولیس اہلکاروں سمیت کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ ایک پورا علاقہ سوگ میں ڈوب گیا، مگر قومی میڈیا نے اسے معمول کی خبر سمجھ کر آگے بڑھا دیا۔

اس کے برعکس، اسی دوران کراچی میں منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار ایک خاتون اور اس کی بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیشی کی خبر اچانک قومی اور مقامی میڈیا پر بریکنگ نیوز بن گئی۔ سارا دن ٹی وی چینلز، ٹاک شوز، وی لاگز اور سوشل میڈیا پر اسی خاتون کا ذکر ہوتا رہا۔ چھوٹے بڑے اینکرز اس گرفتاری پر تبصرے کرتے، اپنے اپنے فلسفے گھڑتے، افواہوں کو ہوا دیتے اور قیاس آرائیوں کو خبر کا درجہ دیتے رہے۔ ایسا ماحول بنا دیا گیا جیسے پاکستان میں پہلی بار کسی منشیات فروش کو پکڑا گیا ہو، یا جیسے اس ملک میں کبھی کسی ملزم یا مجرم کو پولیس، بااثر افراد یا طاقتور حلقوں کا تعاون اور تحفظ حاصل نہ رہا ہو۔

اصل سوال یہ نہیں کہ کراچی کی یہ خبر کیوں نشر ہوئی۔ خبر اہم ہو تو ضرور نشر ہونی چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اسے اس قدر غیر معمولی اہمیت کیوں دی گئی کہ لکی مروت کا دھماکا، خیبر پختونخوا کی بدامنی، عوام کی ہلاکتیں، فوج اور پولیس کی قربانیاں، مہنگائی، بے روزگاری، معاشی بدحالی اور بین الاقوامی خبریں سب پس منظر میں چلی گئیں۔ کیا ایک گرفتار خاتون کی عدالت پیشی واقعی اتنی بڑی خبر تھی کہ ایک صوبے میں بہنے والا خون اس کے نیچے دب جاتا؟

یہی پاکستانی میڈیا کا بنیادی المیہ ہے۔ جہاں خبر کا معیار عوامی اہمیت کے بجائے سنسنی، ریٹنگ اور کلکس سے طے ہونے لگے، وہاں صحافت اپنی روح کھو دیتی ہے۔ صحافت کا کام صرف تماشہ دکھانا نہیں، بلکہ قوم کو جھنجھوڑنا، حکومتوں سے سوال پوچھنا، مظلوموں کی آواز بننا اور اصل مسائل کو مرکزِ بحث بنانا ہے۔ مگر جب میڈیا عوامی شعور کی تعمیر کے بجائے عوامی تجسس کے کاروبار میں بدل جائے تو اسکرین پر وہی دکھایا جاتا ہے جو بکتا ہے، نہ کہ وہ جو قوم کیلئے ضروری ہے۔

خیبر پختونخوا کی صورتحال کئی برسوں سے تشویش ناک ہے۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں دہشت گردی، بدامنی، پولیس پر حملے، عوامی خوف، کمزور انتظامیہ اور سیاسی عدم توجہی ایک مسلسل بحران بن چکے ہیں۔ بازاروں، تھانوں، چوکیوں اور عوامی مقامات پر حملے ہوتے ہیں، مگر قومی سطح پر سنجیدہ بحث نہیں ہوتی۔ دھماکے کے بعد چند رسمی بیانات، روایتی مذمت، چند ٹکرز اور پھر خاموشی۔ نہ یہ پوچھا جاتا ہے کہ دہشت گردی دوبارہ کیوں سر اٹھا رہی ہے، نہ یہ کہ پولیس کو وسائل کیوں نہیں مل رہے، نہ یہ کہ متاثرہ خاندانوں کی کفالت کیسے ہو رہی ہے، اور نہ یہ کہ صوبائی حکومت کی اصل ترجیحات کیا ہیں۔

صوبائی حکومت کا کردار بھی نہایت مایوس کن ہے۔ جس صوبے میں امن و امان بے قابو ہو، عوام خوف میں زندگی گزار رہے ہوں، فوجی اور پولیس اہلکار روز نشانہ بن رہے ہوں اور گورننس بدترین سطح پر ہو، وہاں حکومت کی اولین ذمہ داری عوام کی جان و مال کا تحفظ ہونی چاہیے۔ مگر یہاں سیاسی قیادت عوامی مسائل کے بجائے شخصیات، جیل ملاقاتوں، احتجاجی تماشوں، سیاسی نعروں اور جذباتی تقاریر میں زیادہ دلچسپی لیتی دکھائی دیتی ہے۔ جس وقت لکی مروت میں بم دھماکا ہوا، صوبائی حکومت کو اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا، لیکن وزیر اعلیٰ اپنی کابینہ اور ارکان اسمبلی سمیت پنڈی میں اڈیالا جیل کے باہر مرکزی حکومت کو احتجاج کی دھمکیاں دے رہا تھا۔ افسوس کہ یہ رویہ ایک دن کا نہیں، روز کا معمول بن چکا ہے۔

مرکزی حکومت بھی اس ذمہ داری سے بری نہیں ہو سکتی۔ امن و امان، معاشی بدحالی، مہنگائی، بے روزگاری ، تعلیم، صحت اور عوامی فلاح صرف صوبائی مسائل نہیں، قومی مسائل ہیں۔ وفاق کی ذمہ داری ہے کہ خیبر پختو نخوا کے حالات کو قومی بحران کے طور پر دیکھے۔ مگر بدقسمتی سے وہاں بھی کوئی واضح سمت نظر نہیں آتی۔ ہر سانحے کے بعد مذمت، افسوس، تحقیقات اور دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے روایتی جملے دہرائے جاتے ہیں، مگر عوام اب الفاظ نہیں، اقدامات چاہتے ہیں؛ بیانات نہیں، پالیسی چاہتے ہیں؛ وعدے نہیں، تحفظ چاہتے ہیں۔

تاہم اس قومی زوال میں عوام بھی بے قصور نہیں۔ میڈیا وہی دکھاتا ہے جسے عوام دیکھتے، شیئر کرتے اور موضوعِ بحث بناتے ہیں۔ ہم دہشت گردی، غربت، مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، صحت، پولیس اصلاحات اور گورننس جیسے سنجیدہ موضوعات سے جلد اکتا جاتے ہیں، مگر کسی گرفتاری، اسکینڈل، افواہ یا کردار کشی پر گھنٹوں بحث کرتے ہیں۔ پھر ہم شکایت کرتے ہیں کہ میڈیا اصل مسائل نہیں دکھاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری اپنی دلچسپیاں بھی میڈیا کی ترجیحات کو جنم دیتی ہیں۔ جب قوم تماشہ دیکھنا چاہے تو بازار میں تماشہ ہی بکتا ہے۔

یہ رویہ خطرناک ہے، کیونکہ جس معاشرے میں انسانی جان کی حرمت کم ہو جائے، وہاں اجتماعی ضمیر مرنے لگتا ہے۔ لکی مروت کے شہدا صرف اعداد و شمار نہیں تھے۔ وہ کسی کے بیٹے، بھائی، والد، شوہر اور گھر کے سہارے تھے۔ ان کے پیچھے روتی ہوئی مائیں، بیوائیں، یتیم بچے اور تباہ حال خاندان ہیں۔ انہیں چند لمحوں کی خبر بنا کر بھلا دینا صرف صحافتی کمزوری نہیں، اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔

خیبر پختونخوا کو مسلسل بدامنی کے حوالے کر کے قومی بحث سے باہر رکھنا بھی سنگین ناانصافی ہے۔ یہ صوبہ پاکستان کا حاشیہ نہیں، پاکستان کا دلیر اور قربانی دینے والا حصہ ہے۔ اس کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ اس کی پولیس نے کم وسائل کے باوجود جانیں دی ہیں۔ اس کے بازاروں، گھروں، مساجد اور گلیوں نے بار بار خون دیکھا ہے۔ اگر وہاں امن نہیں تو پورا پاکستان محفوظ نہیں رہ سکتا۔

ضرورت ہے کہ میڈیا اپنی ترجیحات کا سنجیدہ محاسبہ کرے۔ ہر سنسنی خبر نہیں ہوتی، ہر وائرل موضوع قومی اہمیت نہیں رکھتا، اور ہر افواہ بحث کے قابل نہیں ہوتی۔ نیوز چینلز، اخبارات، اینکرز، وی لاگرز اور ڈیجیٹل میڈیا کو چاہیے کہ دہشت گردی، گورننس، پولیس اصلاحات، مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، صحت اور عوامی مسائل کو مستقل کوریج دیں۔ خبر کو تماشہ بنانے کے بجائے ذمہ داری بنایا جائے۔ سوال شخصیات سے نہیں، نظام سے پوچھے جائیں۔ بحث کرداروں پر نہیں، پالیسی پر ہو۔

عوام کو بھی اپنی دلچسپیوں کا معیار بدلنا ہوگا۔ اگر ہم سنجیدہ مسائل کو اہمیت دیں، متاثرہ خاندانوں کی آواز بنیں، منتخب نمائندوں سے جواب مانگیں، ذمہ دارانہ میڈیا کوریج کا مطالبہ کریں اور افواہ سازی کا حصہ بننے سے انکار کریں تو ماحول بدل سکتا ہے۔ میڈیا، حکومت اور عوام تینوں کو سمجھنا ہوگا کہ قومیں تماشوں سے نہیں، ترجیحات سے بنتی ہیں۔

ایک ہی دن لکی مروت کا دھماکا اور کراچی میں ایک منشیات فروش خاتون کی گرفتاری اور دونوں واقعات کو میڈیا کی جانب سے بالکل مختلف کوریج ملنا ہمیں پھر یہ سوال دے گیا ہے کہ کیا ہم زندہ قوم ہیں یا صرف تماشائی؟ کیا انسانوں کی موت ہمارے لئے معمول بن چکی ہے؟ کیا ایک صوبے کی بدامنی قومی مسئلہ نہیں رہی؟ اگر ایسا ہے تو پھر بحران صرف خیبر پختونخوا کا نہیں، پورے پاکستان کے ضمیر کا ہے۔ اصل دھماکا صرف سرائے نورنگ بازار میں نہیں ہوا؛ اصل دھماکا ہماری ترجیحات، صحافت، سیاست اور اجتماعی بے حسی میں ہو چکا ہے۔