واشنگٹن(ایجنسیاں) امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکا کینیڈا کے ساتھ جنگ میں نہیں، تاہم انہوں نے کینیڈا کی جوابی تجارتی کارروائی کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ کیا کینیڈا ایڈمنٹن مال کی 2 آبدوزیں نکال کر امریکا پر حملہ کرے گا؟
امریکی ٹی وی چینل سی این بی سی کو انٹرویو میں اسکاٹ بیسنٹ سے سوال کیا گیا کہ کیا امریکا اس وقت کینیڈا کے ساتھ تجارتی جنگ میں ہے؟
اسکاٹ بیسنٹ نے جواب دیا کہ امریکا کینیڈا کے ساتھ جنگ میں نہیں، انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان برابری کی بنیاد پر جوابی کارروائی ممکن نہیں کیونکہ امریکی معیشت کینیڈا سے 13 گنا بڑی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ امریکا کینیڈا کے ساتھ جنگ میں کیسے ہوسکتا ہے؟ کیا کینیڈا ایڈمنٹن مال سے اپنی 2 آبدوزیں نکال کر امریکا پر حملہ کرے گا؟
واضح رہے کہ ایڈمنٹن کے ویسٹ ایڈمنٹن مال میں کبھی 4 تفریحی آبدوزیں موجود تھیں جو ایک انڈور جھیل میں سیاحوں کو سیر کراتی تھیں، تاہم یہ سواری 2005 میں بند کردی گئی تھی اور 2012 میں آبدوزوں کو اسکریپ کردیا گیا تھا۔
اسکاٹ بیسنٹ نے وزیراعظم مارک کارنی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے موجودہ سیاسی کشیدگی کو تجارتی تنازع کے بجائے سیاسی مقابلے میں تبدیل کردیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ نے الزام عائد کیا کہ مارک کارنی کینیڈین عوام کے بجائے لبرل پارٹی اور اپنی سیاسی پوزیشن کے لیے بہتر سمجھے جانے والے اقدامات کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مارک کارنی اقتدار میں ’امریکا مخالف اور ٹرمپ مخالف ایجنڈے‘ کے ساتھ آئے اور اب موجودہ صورتحال کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔
اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق امریکا نے کینیڈا کو دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں بہترین تجارتی معاہدے کی پیشکش کی تھی، تاہم اوٹاوا نے آخری وقت میں مذاکرات سے دستبرداری اختیار کرلی۔
دوسری جانب مارک کارنی کا مؤقف ہے کہ امریکا نے مذاکرات کے آخری مرحلے میں ایسی شرائط پیش کیں جو کینیڈا کے لیے غیر منصفانہ اور معاشی طور پر ناقابل قبول تھیں۔
تجارتی مذاکرات 21 اگست کو ناکام ہونے کے بعد امریکا نے تقریباً 28 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کردیا تھا۔ کینیڈا نے بھی جواباً امریکی مصنوعات پر اسی شرح سے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جو 8 ستمبر سے نافذ ہونے ہیں۔
کینیڈین وزیراعظم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکی ٹیرف کے نفاذ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ شروع ہوچکی ہے، جبکہ اسکاٹ بیسنٹ نے اس اصطلاح کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور کینیڈا جنگ میں نہیں ہیں۔
دریں اثنا البرٹا کی وزیراعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے بھی کہا ہے کہ ٹیرف کی جنگ میں کسی کی فتح نہیں ہوگی اور اس تنازع کا سب سے زیادہ اثر سرحد کے دونوں جانب چھوٹے کاروباروں اور کارکنوں پر پڑ سکتا ہے۔

