بدھ کے روز لاہور میں زوردار بارش ہوئی اور اکثر مقامات پر اولے بھی پڑے، وسطی شہر میں پڑنے والے اولوں نے متعدد قیمتی گاڑیوں کو بری طرح نقصان بھی پہنچایا، اکثر گاڑیوں کی ونڈ سکرینیں ٹوٹیں اور چھتوں میں بھی سوراخ ہو گئے، شہر کے مختلف علاقوں میں بارش کا زور اور انداز بھی الگ الگ تھا، بہرحال یہ تیز بارش، آندھی نما ہوا کے ساتھ تھی اس سے بھی نقصان ہوا۔
یہ بارش نہ صرف غیر معمولی بلکہ غیر موسمی بھی ہے کہ دنیا میں موسمیاتی تبدیلی ہو چکی، پاکستان اس سے زیادہ متاثر ہے اِس لئے یہاں بھی موسم تبدیل ہو چکے،سردی کی مدت کم اور گرمی کی زیادہ ہو گئی ہے جبکہ درجہ حرارت بھی معمول سے بڑھ چکا ہے، ہم جو پرانے لوگ ہیں زیادہ پریشان ہوتے ہیں کہ پیارا پاکستان موسمی لحاظ سے بھی بڑا پیارا ملک تھا، جس میں خزاں، بہار، برسات اور سرد موسم وقت پر آتے۔ برسات کے حوالے سے تو برصغیر کے شاعروں نے بڑی غزلیں اور گیت لکھے ،اگرچہ یہ گیت آج بھی کانوں کو سہانے لگتے ہیں لیکن موسم و حالات اب وہ نہیں ہیں۔ ہمارے بچپن اور نوجوانی میں برسات اور بہار کے موسم بہت پُرلطف تھے اور اسی حوالے سے اللہ نے پھل بھی عنایت فرما رکھے ہیں،برسات کے موسم میں جو لطف آم اور پراٹھوں کا تھا وہ اب عنقا ہے کہ اس دور میں برسات ہوتی تو موسلادھار بارش کبھی کبھار تھی ورنہ عمومی طور پر جو مینہہ برستا وہ دِل آویز ہوتا اور اس بارش میں نہانے کا مزہ آتا تھا لیکن اب تو حالات ہی تبدیل ہو کر رہ گئے ہیں، برسات کے دِنوں میں ویسی جھڑی نہیں لگتی، تیز بارش ہوتی ہے جو نہ صرف سیلاب کا باعث بن کر نقصان پہنچاتی ہے بلکہ حبس سے بھی برا حال کر دیتی ہے اور گزشتہ روز بھی ایسا ہی ہوا کہ بارش اور ٹھنڈی ہوا کے دوران تو سکون محسوس ہوا لیکن جونہی بارش رُکی حبس نے آ لیا۔
گذشتہ (بدھ) روز ہمارے لئے تو آفت خیز تھا کہ لاہور میں لیسکو کا سارا نظام ہی تلپٹ ہو گیا وزیر موصوف اور لیسکو چیف کے سارے کے سارے دعوے دھر ے کے دھرے رہ گئے، لاہور کے زیادہ تر حصے میں بجلی بند ہو گئی، اکثر علاقوں میں یہ بندش کئی گھنٹے تک رہی حتیٰ کہ جو علاقے کم متاثر تھے ان میں بھی گرڈ بند کر دیئے گئے، خود میرے رہائشی علاقے میں بجلی مسلسل ڈھائی گھنٹے تک بند رہنے کے بعد بحال ہوئی تو رات12بجے تک نئی پریشانی نے آ لیا، وولٹیج کم اور زیادہ ہوتے تھے،بجلی بار بار ٹرپ کرتی اور برقی آلات کو خطرہ تھا بلکہ شارٹ سرکٹ سے حادثہ بھی ہو سکتا تھا، تمام دعوے اِس بارش میں بہہ گئے تھے اور اندازہ ہوا کہ کسی ہنگامی صورتحال میں ہم بحالی کے اہل ہی نہیں ہیں کہ میرے رہائشی علاقے میں رات 12بجے کے بعد لائٹ معمول پر آئی تھی حالانکہ اس سے قبل نوبت یہاں تک آ گئی تھی کہ لوڈشیڈنگ ختم تو نہ ہوئی، کم بہت ہو گئی تھی۔اکثر آدھ گھنٹہ کے لئے بھی ہوتی رہی لیکن بدھ کی بارش نے تمام صلاحیت اور ہنر مندی کے دعوؤں والے پول کھول دیئے اور شہری دِل تھام کر رہ گئے۔
مشرق وسطیٰ اور مجموعی طور دنیا کے جو حالات جنگ کی وجہ سے ہیں اس سے سبھی ممالک متاثر ہوئے تاہم ہم زیادہ پریشان ہیں کہ بقول حکمران اتحاد ہماری معیشت ابھی پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش میں تھی اس سلسلے میں عرض ہے کہ وزیراعظم کی طرف سے بچت کے کئی اقدامات کئے گئے لیکن بدقسمتی سے ان سب سے قوم مستفید نہیں ہو سکی کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھ گئے۔ آج جمعہ ہے اور لوگوں کے دِل دھڑک رہے ہیں کہ آج پھر پٹرولیم کی قیمتیں بڑھا دی جائیں گی اور مزید مہنگائی کا بوجھ ہو گا پہلے ہی نچلا متوسط طبقہ غریب ہو چکا اور اسے سفید پوشی کا بھرم رکھنا مشکل ہو گیا ہے، بجلی اور گیس کے نرخ استطاعت سے باہر ہیں کہ بازاروں میں نہ صرف مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے بلکہ ملاوٹ سے بیماریاں پھیلانے کا سلسلہ جاری ہے ہمارے لوگ بھولے تھے،پھر کہا گیا کہ یہ سمارٹ ہیں۔ یہ ایسے سمارٹ ہوئے کہ کیمیکلز سے دودھ تیار کر لیا اور یہی ہنر مندی اب فروٹ اور سبزیوں میں بھی در آئی ہے جو کھیت سے شروع ہو کر براستہ منڈی دوکانوں تک پہنچ گئی ہے۔ یہ سیزن تربوز اور خربوزوں کے ساتھ آڑو اور آم کا بھی ہے، سیب کا سیزن آف ہے لیکن بازار میں مل جاتے ہیں۔ تربوز 30روپے سے50روپے فی کلو تک بک رہا ہے کہ مال زیادہ آ چکا لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ یہ تربوز پکنے سے پہلے بڑا کیا گیا اور پھر اسے رنگ کا ٹیکہ لگا کر سرخ بھی کر دیا گیا ہے۔ یہی حال سبزیوں کا ہے کہ اب ہمارے کاشتکار بھائی بھی سائنس پڑھ چکے ہیں وہ کھاد کے ساتھ ایسے کیمیکلز ملا کر کھیتوں میں خوراک مہیا کرتے ہیں کہ فروٹ اور سبزی جلد بڑے سائز کے ہو جاتے اور بازار میں آ کر فروخت ہوتے ہیں۔اب ان سبزیوں اور فروٹ کا حقیقی ٹیسٹ (مزہ) نہیں رہا اور اسی طرح صحت مند اشیاء نایاب ہیں، بہت کم لوگ ایسے ہیں جن کے گھروں کے ساتھ لان یا کھلی کچی جگہ ہے وہ خود کاشت کا سلسلہ شروع کر چکے لیکن یہ ابھی عام نہیں ہو سکا۔
بات بجلی سے شروع کی اور بتایا کہ محکمہ کا نظام کس بری طرح فلاپ ہوا،یوں بھی بجلی کی آوارہ تاریں اور ڈھیلی لائننگ تیز ہوا سے سپارک کر جاتی ہیں،بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے بجٹ میں سالانہ مرمت کے لئے خطیر رقوم ہوتی ہیں لیکن یہ کہاں اور کیسے خرچ ہوتی ہیں اس کا کوئی حساب بھی عوام کے سامنے نہیں آیا۔ یوں بھی یہ بے چارے لوگ بل دے دے کر پاگل ہوئے رہتے ہیں اس طرف کیا توجہ دیں۔
اب سنا ہے صوبائی حکومت نے محبت فرما کر ہر گھر پر کوڑا ٹیکس لگا دیا ہے اس کے لئے کہا گیا تھا کہ ستھرا پنجاب والے خود گھر گھر سے کوڑا لے کر جائیں گے، بدقسمتی سے کوڑا لے کر جانا تو دور کی بات گلیاں صاف نہیں ہوتیں تو کوڑا کون لے جائے گا آج دِل کی تسلی کے لئے باتیں کہہ لیں شاید کسی کو بہتر لگیں۔

