برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے کابینہ کی تشکیل شروع کردی، شبانہ محمود ہوم سیکرٹری برقرار

لندن (رائٹرز) برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم نے اپنی کابینہ کی تشکیل کا عمل شروع کر دیا ہے۔ پاکستان نژاد شبانہ محمود پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ہوم سیکرٹری کے منصب پر برقرار رکھا گیا ہے۔

شبانہ محمود اس سے قبل بھی سابق وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر کی کابینہ میں ہوم سیکرٹری کی ذمہ داریاں انجام دے رہی تھیں۔ برطانوی سیاست میں ہوم سیکرٹری کا عہدہ وزیراعظم اور چانسلر آف دی ایکسچیکر کے بعد اہم ترین مناصب میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ اس وزارت کے تحت امیگریشن، قومی سلامتی، پولیس اور داخلی امور جیسے اہم شعبے آتے ہیں۔

سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ شبانہ محمود یا ایڈ ملی بینڈ کو وزیر خزانہ (چانسلر آف دی ایکسچیکر) مقرر کیا جا سکتا ہے، تاہم وزیراعظم اینڈی برنہم نے یہ ذمہ داری سابق وزیر دفاع جان ہیلی کے سپرد کر دی ہے۔جان ہیلی نے گزشتہ ماہ دفاعی اخراجات میں کمی کے معاملے پر اختلاف کے باعث سر کیئر اسٹارمر کی کابینہ سے استعفیٰ دیا تھا۔

نئی کابینہ میں ایڈ ملی بینڈ کو وزیر خارجہ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اطلاعات ہیں کہ مزید پاکستان نژاد ارکان پارلیمنٹ کو بھی اہم حکومتی ذمہ داریاں دی جا سکتی ہیں۔برطانیہ کی کابینہ میں عموماً 23 سینئر وزراء شامل ہوتے ہیں، جن میں زیادہ تر سیکرٹریز آف اسٹیٹ ہوتے ہیں۔ یہی کابینہ حکومت کے اہم پالیسی اور انتظامی فیصلے کرتی ہے۔

مجموعی طور پر برطانوی حکومت کی وزارتی ٹیم تقریباً 124 ارکان پر مشتمل ہوتی ہے، جن میں وزیراعظم، کابینہ کے وزراء، وزرائے مملکت اور پارلیمانی انڈر سیکرٹریز شامل ہوتے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق سر کیئر اسٹارمر کی حکومت کی کارکردگی سے مایوس عوام نے اینڈی برنہم کی حکومت سے بڑی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں۔ ان کے مطابق نئی حکومت کے لیے اصل امتحان معیشت کی بہتری، عوامی مسائل کے حل اور بنیادی خدمات کی فراہمی میں فوری اور مؤثر اقدامات کرنا ہوگا، کیونکہ عوامی توقعات پوری نہ ہونے کی صورت میں حکومت کی مقبولیت اور ساکھ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔