بھارت: ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کا پہلا احتجاج، وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ

نئی دہلی( بھارتی میڈیا)بھارت میں چیف جسٹس کے مبینہ متنازع ریمارکس کے بعد تشکیل دی جانے والی ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ نے دارالحکومت نئی دہلی میں اپنا پہلا احتجاج ریکارڈ کرایا، جس میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔

احتجاجی مظاہرے میں بڑی تعداد میں نوجوانوں اور طلبہ نے شرکت کی، جبکہ سکیورٹی کے سخت انتظامات کے تحت جنتر منتر اور اس کے اطراف بھاری نفری تعینات کی گئی۔پارٹی کے بانی ابھجیت دیپکے نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ بھارت کے دیگر شہروں تک بڑھا دیا جائے گا اور آئندہ ہفتے دوبارہ جنتر منتر میں بڑا مظاہرہ کیا جائے گا۔

مظاہرے میں معروف سماجی کارکن اور سائنسدان سونم وانگچو کی شرکت بھی سامنے آئی، جسے مظاہرین نے اہم پیش رفت قرار دیا۔اطلاعات کے مطابق چیف جسٹس آف انڈیا کی ایک سماعت کے دوران بے روزگار نوجوانوں سے متعلق مبینہ ریمارکس کے بعد اس تحریک نے جنم لیا، جس کے ردعمل میں ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کے نام سے تنظیم قائم کی گئی۔

پارٹی کے بانی ابھجیت دیپکے، جو احتجاج میں شرکت کے لیے بیرون ملک سے بھارت پہنچے تھے، نے اپنی تقریر میں کہا کہ گزشتہ برسوں میں بھارتی سیاست کو مذہبی تقسیم کی طرف دھکیلا گیا، جبکہ نوجوانوں کے روزگار اور تعلیمی مسائل کو نظر انداز کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے بنیادی مسائل حل کرنے کے بجائے سیاسی پولرائزیشن کو فروغ دیا گیا ہے۔

ابھجیت دیپکے نے اپنی تنظیم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی معطلی کا ذکر کرتے ہوئے اسے آواز دبانے کی کوشش قرار دیا، تاہم کہا کہ ’’تحریک کو روکا نہیں جا سکتا‘‘۔مظاہرے کے دوران شرکاء نے تعلیمی اصلاحات، روزگار کے مواقع اور حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی کے حق میں نعرے بھی بلند کیے۔