جڑواں شہروں میں بارش،60 افراد ریسکیو، راولپنڈی میں تعلیمی ادارے بند

راولپنڈی(نمائندہ خصوصی+نامہ نگار) جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں منگل کی صبح سے ہونے والی موسلا دھار بارش کے باعث نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، سڑکیں زیرِ آب آگئیں، ٹریفک متاثر ہوئی جبکہ انتظامیہ نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ کردیا۔

راولپنڈی میں تقریباً 200 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ شمشاد آباد میں 201 اور نیو کٹاریاں میں 186 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ شدید بارش کے باعث نالہ لئی میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہوا اور اس کے اطراف میں واقع نشیبی علاقوں میں پانی داخل ہوگیا۔

ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کیپٹن (ر) ندیم ناصر کے مطابق نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث معاون نالوں کا پانی واپس آنے لگا، جس سے قریبی آبادیوں میں پانی داخل ہوا۔ انتظامیہ نے نالہ لئی کے اطراف اور نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی۔

ضلعی انتظامیہ نے شدید بارش اور سیلابی صورتحال کے باعث راولپنڈی شہر میں عام تعطیل کا اعلان کرتے ہوئے تمام تعلیمی ادارے بند کردیئے۔ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور نالہ لئی سمیت نشیبی علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی۔

نالہ لئی فلڈ کنٹرول روم کے مطابق کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح بعد میں کم ہوکر تقریباً 20.5 فٹ رہ گئی جبکہ گوالمنڈی کے مقام پر پانی کی سطح 22 فٹ ریکارڈ کی گئی۔ انتظامیہ کے مطابق پانی کی سطح میں کمی کے باوجود کٹاریاں میں پانی کی سطح اب بھی 20 فٹ کی انخلا کی حد کے قریب ہے، اسلئے انخلا کی صورتحال برقرار رکھی گئی۔

راولپنڈی کینٹونمنٹ بورڈ کے چیف واٹر انجینئر محمد عتیق کے مطابق راولپنڈی میں ہونے والی بارش نے 16 سالہ ریکارڈ توڑ دیا، اس سے قبل اسی نوعیت کی بارش 2010 میں ریکارڈ کی گئی تھی۔

شدید بارش کے باعث شمشاد آباد، صادق آباد، اعوان کالونی، جامع مسجد روڈ، جاوید کالونی، حبیب کالونی، ڈھوک فرمان علی اور دیگر علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔ ڈھوک فرمان علی کی یونین کونسل 44 میں بعض گلیوں میں تقریباً 3 فٹ تک پانی جمع ہوگیا، جس کے باعث شہریوں نے گھریلو سامان محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

ریسکیو 1122 راولپنڈی کے مطابق ٹرانسفارمر چوک کے قریب بارش کے پانی میں ایک خاندان کے پھنسنے کی اطلاع پر ریسکیو ٹیم روانہ کی گئی جبکہ ڈھوک کالا خان میں بھی ایک خاندان کو سیلابی پانی سے نکالا گیا۔

ریسکیو 1122 کے میڈیا کوآرڈینیٹر محمد عثمان گجر کے مطابق شدید بارش کے پیش نظر ریسکیو ٹیمیں رات سے ہی نالہ لئی اور نشیبی علاقوں میں تعینات تھیں۔ کٹاریاں، گوالمنڈی اور دیگر حساس مقامات پر اہلکار پانی کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کرتے رہے۔

ریسکیو 1122 کے مطابق مختلف مقامات پر سیلابی پانی میں پھنسے افراد کی متعدد اطلاعات موصول ہوئیں، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

ریسکیو 1122 راولپنڈی کے مطابق شدید بارش کے بعد جاری امدادی کارروائیوں میں 60 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔رحیم آباد پل سے 30 مسافروں، کُری روڈ سے 8 افراد اور ڈھوک کالا خان سے 8 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ دارالامان سے 6 خواتین جبکہ ڈھوک نجّو سے 3 افراد کو ریسکیو کیا گیا۔

ریسکیو کارروائیاں متعدد مقامات پر جاری رہیں۔ نیو پھگواڑی میں 12 افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاع پر آپریشن جاری رہا جبکہ ڈھوک نجّو میں مزید 5 افراد کو نکالنے کے لیے کارروائی کی گئی۔ آریہ محلہ میں متعدد افراد گھروں میں محصور ہوگئے جبکہ بند کھنہ روڈ پر ایک خاتون رکشے میں پھنس گئی۔

گنج منڈی میں سڑک کے متاثر ہونے کے مقام پر بھی امدادی کارروائی جاری رہی۔

اسلام آباد میں بھی شدید بارش کے باعث متعدد علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن کے مطابق ای الیون میں مختصر وقت کے دوران تقریباً 150 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث ایک نالہ اوور فلو ہوگیا اور پانی سڑکوں اور بعض بیسمنٹس میں داخل ہوگیا۔

ڈپٹی کمشنر کے مطابق متاثرہ علاقوں میں ڈی واٹرنگ کا عمل ان کی نگرانی میں جاری رہا جبکہ اضافی ڈی واٹرنگ پمپس بھی تعینات کیے گئے۔ انتظامیہ نے بعض متاثرہ بیسمنٹس کو سیل بھی کردیا۔بارش کے باعث ڈی 12/2 میں حفاظتی دیوار بھی گر گئی تاہم واقعے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ متاثرہ مقام پر ریسکیو اور امدادی کارروائیاں جاری رہیں۔

اسلام آباد ایکسپریس وے سمیت متعدد اہم شاہراہوں پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ ٹریفک پولیس کی مدد سے ٹریفک کو رواں رکھنے کے اقدامات کیے گئے۔آئی ایٹ میں ایک کمرشل سینٹر کے بیسمنٹ میں بھی بارش کا پانی داخل ہوگیا، جس سے دکانیں متاثر ہوئیں اور کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں۔ دکانداروں نے پانی جمع ہونے سے مالی نقصان کی شکایات کیں۔

اسلام آباد ٹریفک پولیس نے شہریوں کو بارش کے دوران محتاط رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے رفتار کم رکھنے، محفوظ فاصلہ برقرار رکھنے، ہیڈ لائٹس روشن رکھنے اور اچانک بریک یا تیز موڑ سے گریز کرنے کی ہدایت کی۔ ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون استعمال نہ کرنے اور ٹریفک قوانین پر عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔

راولپنڈی کینٹونمنٹ بورڈ کے تمام عملے کو ہائی الرٹ کردیا گیا جبکہ ایمرجنسی سینٹر اور فلڈ ریلیف کیمپ بھی قائم کیے گئے۔ کینٹونمنٹ کے علاقے کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 6 حصوں میں تقسیم کیا گیا۔چیف واٹر انجینئر کے مطابق زیادہ بارش نالہ لئی کے بالائی علاقوں میں ہوئی، جبکہ کینٹونمنٹ کے علاقوں میں نسبتاً کم بارش ہوئی۔ شہری ہنگامی صورتحال میں کنٹرول روم سے رابطہ کرسکتے ہیں جہاں عملہ 24 گھنٹے دستیاب ہے۔

ریسکیو 1122 نے شہریوں کو مون سون بارشوں کے دوران انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایت کرتے ہوئے والدین سے اپیل کی کہ بچوں کو نالہ لئی اور بجلی کے کھمبوں کے قریب نہ جانے دیں۔انتظامیہ کے مطابق نالہ لئی میں پانی کی سطح تیزی سے کم ہونے کے باعث مجموعی صورتحال میں بہتری آنا شروع ہوگئی ہے تاہم نشیبی علاقوں کے مکینوں کو خطرہ مکمل طور پر ختم ہونے تک چوکس رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔