جب کسی مظلوم برادری کے سو سے زائد افراد چند ہی دنوں میں قتل کر دیےجائیں اور ان کے اہلِ خانہ احتجاجاً اپنے پیاروں کی تدفین سے انکار کر دیں، تو یہ ناکامی محض انتظامی نہیں رہتی بلکہ آئینی نوعیت اختیار کر لیتی ہے۔ ایسے ہی نازک مواقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خود کو پاکستان کے آئین اور انسانی حقوق کے ایک اصولی محافظ کے طور پر منوایا۔ اپنی صاف گوئی، عدالتی آزادی اور احتساب پر غیر متزلزل اصرار کے باعث وہ پاکستان کی عدلیہ کی نہایت معتبر شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے لے کر سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج، اور بعد ازاں چیف جسٹس، تک ان کی عدالتی فکر مسلسل اس اصول کے گرد گھومتی رہی ہے کہ ریاست کا بنیادی فریضہ اپنے شہریوں، بالخصوص کمزور اور غیر محفوظ طبقات، کا تحفظ ہے۔ ہزارہ قتل عام ازخود نوٹس کیس، (پی ایل ڈی 2013 , بلوچستان 75)، اسی عدالتی فلسفے کا نہایت واضح اظہار ہے۔
یہ مقدمہ کوئٹہ , بلوچستان میں فرقہ وارانہ تشدد کی اس لہر کے پس منظر میں سامنے آیا جس میں ہزارہ شیعہ برادری طویل عرصے سے منظم حملوں کا نشانہ بنتی رہی تھی۔ یہ مقدمہ کوئٹہ میں فرقہ وارانہ تشدد کی اس لہر کے پس منظر میں سامنے آیا جس کے دوران ہزارہ شیعہ برادری طویل عرصے سے منظم حملوں کا نشانہ بنتی رہی۔ 2013 کے اوائل میں علمدار روڈ اور ہزارہ ٹاؤن میں ہونے والے بم دھماکوں میں درجنوں افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔۔ ان حملوں کی ذمہ داری انتہا پسند دہشت گرد گروہوں پر عائد کی گئی، جو خطرناک تسلسل کے ساتھ سرگرم تھے۔ ان واقعات کو مزید المناک بنانے والی بات صرف ان کی شدت نہیں تھی، بلکہ یہ حقیقت بھی تھی کہ یہ حملے پیشگی انٹیلی جنس اطلاعات کے باوجود ہوئے۔ یہی احساس کہ ان سانحات کو روکا جا سکتا تھا، عوامی غم و غصے کا سبب بنا۔ متاثرین کے خاندانوں نے شدید سردی میں احتجاج کیا اور اپنے پیاروں کی تدفین سے انکار کر دیا، یہاں تک کہ حکومت بامعنی کارروائی کرے۔ اسی غم، غصے اور ادارہ جاتی ناکامی کے ماحول میں جسٹس عیسیٰ نے ازخود نوٹس لیا اور کسی باقاعدہ درخواست کے بغیر معاملہ عدالت کے سامنے پیش کیا۔
اپنے فیصلے میں جسٹس عیسیٰ نے اس تشدد کو دہشت گردی کا ناگزیر نتیجہ سمجھ کر قبول کرنے سے انکار کیا۔ اس کے بجائے انہوں نے اسے ریاست کی بنیادی آئینی ذمہ داری، یعنی شہریوں کی جان کے تحفظ، میں ناکامی قرار دیا۔ ان کے نزدیک ہزارہ برادری کو بار بار نشانہ بنایا جانا بنیادی حقوق، خصوصاً زندگی اور تحفظ کے حق، کی سنگین خلاف ورزی تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے ذمہ داری کو صرف حملہ آوروں تک محدود نہیں رکھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب ریاست معتبر خطرات کے باوجود مؤثر کارروائی نہیں کرتی، جب اداروں کے درمیان رابطہ اور تعاون ناکافی ہوتا ہے، اور جب معروف شدت پسند نیٹ ورکس کو بے خوف و خطر کام کرنے دیا جاتا ہے، تو ریاست بھی جواب دہ ہوتی ہے۔ یوں اس فیصلے نے پاکستان میں دہشت گردی کے بیانیے کو محض بیرونی خطرات سے ہٹا کر داخلی احتساب کی طرف موڑ دیا۔
اس فیصلے کی نمایاں خوبی ادارہ جاتی ناکامیوں کا غیر معمولی تفصیلی جائزہ ہے۔ جسٹس عیسیٰ نے عمومی تنقید پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلی جنس ایجنسیوں، صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کے کردار کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے ان مخصوص کوتاہیوں کی نشاندہی کی جنہوں نے ان حملوں کو ممکن بنایا، جن میں انٹیلی جنس رپورٹس کو نظر انداز کرنا، چیک پوسٹوں کا کمزور انتظام، اداروں کے درمیان ناقص ہم آہنگی، اور کالعدم تنظیموں کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی میں ناکامی شامل تھی۔ یہ فیصلہ کئی مقامات پر روایتی عدالتی حکم سے بڑھ کر طرزِ حکمرانی کا باریک بین محاسبہ معلوم ہوتا ہے۔ ان ناکامیوں کو اتنی وضاحت کے ساتھ ریکارڈ پر لا کر عدالت نے ایک ایسا عوامی دستاویزاتی ریکارڈ قائم کیا جسے آسانی سے نظر انداز یا فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
اس مقدمے نے آئینی اصولوں میں بھی اہم اضافہ کیا، خاص طور پر ہائی کورٹس کے ازخود نوٹس اختیارات کے دائرۂ کار کو واضح کر کے۔ اگرچہ ازخود نوٹس کا اختیار عموماً سپریم کورٹ آف پاکستان سے وابستہ سمجھا جاتا ہے، جسٹس عیسیٰ نے واضح کیا کہ بنیادی حقوق کی فوری اور سنگین خلاف ورزیوں کے معاملات میں ہائی کورٹس بھی مداخلت کر سکتی ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ اختیار احتیاط اور تحمل کے ساتھ استعمال ہونا چاہیے۔ عدالتوں کو انتظامیہ کا متبادل نہیں بننا چاہیے، نہ ہی انہیں پالیسی سازی یا انتظامی امور چلانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ازخود نوٹس کا اختیار صرف غیر معمولی حالات میں استعمال ہونا چاہیے، جہاں ناانصافی روکنے کے لیے فوری عدالتی مداخلت ناگزیر ہو۔ اس متوازن طرزِ فکر نے عدلیہ کے حقوق کے محافظ کردار کو تقویت دی، جبکہ اختیارات کی تقسیم کے آئینی اصول کا احترام بھی برقرار رکھا۔
فیصلے کا ایک اور اہم پہلو میڈیا سے متعلق اس کا نقطۂ نظر ہے۔ جسٹس عیسیٰ نے آزادیِ اظہار کی اہمیت کو تسلیم کیا، مگر ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ یہ آزادی مطلق نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ میڈیا پلیٹ فارمز کو انتہا پسند نظریات کی ترویج، انہیں جواز فراہم کرنے، یا ایسے خیالات پھیلانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا جو تشدد پر اکساتے ہوں یا دہشت گردی کی حمایت کرتے ہوں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں میڈیا بیانیے عوامی رائے پر گہرا اثر ڈالتے ہیں، یہ مشاہدہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم یہ نکتہ ایک مشکل سوال بھی اٹھاتا ہے: ذمہ دارانہ ضابطہ کاری اور ناجائز پابندی کے درمیان حد کہاں قائم کی جائے؟ یہی تناؤ آج بھی آزادیِ صحافت سے متعلق مباحث کا اہم حصہ ہے۔
اپنی قانونی اہمیت سے آگے بڑھ کر، یہ فیصلہ اس لیے بھی اثر انگیز ہے کہ اس کے مرکز میں انسانی تکلیف موجود ہے۔ عدالت نے ہزارہ برادری کو محض متاثرین کے ایک گروہ کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ ایک ایسے پسماندہ اور غیر محفوظ طبقے کے طور پر تسلیم کیا جو مسلسل خطرے کے سائے میں زندگی گزار رہا تھا۔ ان کی کمزوری اور عدم تحفظ کو نمایاں کر کے عدالت نے بامعنی مساوات کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قانون کے تحت مساوی تحفظ کبھی کبھار اضافی ریاستی توجہ اور کوشش کا تقاضا کرتا ہے، خصوصاً وہاں جہاں خطرات یکساں طور پر تقسیم نہ ہوں۔ انسانی حقوق پر مبنی یہی زاویۂ نگاہ جسٹس عیسیٰ کی عدالتی فکر کی نمایاں خصوصیت ہے، اور یہی وجہ ہے کہ یہ مقدمہ آج بھی اقلیتوں کے تحفظ اور ریاستی ذمہ داری سے متعلق مباحث میں حوالہ بنتا ہے۔
اس کے باوجود یہ مقدمہ عدالتی مداخلت کی حدود کو بھی واضح کرتا ہے۔ عدالت ناکامیوں کی نشاندہی کر سکتی تھی، احتساب کے اصول بیان کر سکتی تھی، اور ریاستی ذمہ داری کا معیار متعین کر سکتی تھی؛ مگر وہ خود ان اصلاحات کو نافذ نہیں کر سکتی تھی جو مستقبل میں ایسے تشدد کو روکنے کے لیے ضروری تھیں۔ یہ ذمہ داری انتظامیہ پر عائد تھی۔ بعد کے برسوں میں فرقہ وارانہ حملوں کا جاری رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عملی پیش رفت غیر ہموار اور ناکافی رہی۔ عدالتی فیصلے اور عملی نفاذ کے درمیان یہ خلا صرف پاکستان تک محدود نہیں، مگر سکیورٹی اور حکمرانی سے متعلق معاملات میں یہ خاص طور پر نمایاں ہو جاتا ہے۔
اس کے باوجود ہزارہ قتل عام کیس کی اہمیت اس بات میں ہے کہ اس نے اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے کیا حاصل کیا۔ اس نے ریاست کو اپنی کوتاہیوں کا سامنا کرنے پر مجبور کیا، ایک پسماندہ برادری کی آواز کو عدالتی سطح پر جگہ دی، اور دہشت گردی کے تناظر میں آئینی ذمہ داری کو سمجھنے کا ایک واضح فریم ورک پیش کیا۔ اس فیصلے نے یہ بھی ثابت کیا کہ بحران کے لمحات میں عدالتیں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، دوسرے اداروں کی جگہ لے کر نہیں بلکہ انہیں ان کی آئینی ذمہ داریوں کے لیے جواب دہ بنا کر۔
تیرہ سال گزر جانے کے باوجود، یہ فیصلہ آج بھی اس بات کی ایک طاقتور یاد دہانی ہے کہ قانون کی حکمرانی کا معیار اس بات سے نہیں لگایا جاتا کہ ریاست طاقتوروں کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے، بلکہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ سب سے زیادہ خطرے میں گھرے افراد کا تحفظ کیسے کرتی ہے۔، بلکہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ سب سے زیادہ خطرے میں گھرے افراد کا تحفظ کیسے کرتی ہے۔ اس اصول کو قانونی قوت دے کر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے محض ایک مقدمے کا فیصلہ نہیں کیا؛ انہوں نے ایک ایسا معیار قائم کیا جو آج بھی پاکستان کے اداروں کو بہتر کارکردگی، زیادہ احتساب اور انسانی حقوق کے حقیقی تحفظ کا چیلنج دیتا ہے۔

