ٹورنٹو(نمائندہ خصوصی) کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا پر تازہ تنقید کے جواب میں امریکا کو مذاکرات میں سنجیدگی اختیار کرنے کا مشورہ دے دیا۔
مارک کارنی نے کہا کہ امریکا ’میمز بنانا، طنز کرنا اور سخت بننے کی کوشش کرنا چھوڑ دے‘ اور مذاکرات کیلئےسنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو کینیڈا تجارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کیلئے تیار ہے۔
کینیڈین وزیراعظم نے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے مذاکرات میں ایسی شرائط پیش کی گئیں جن کے نتیجے میں کینیڈا کی صنعتیں بتدریج ختم اور تباہ ہوسکتی تھیں، جنہیں کینیڈا کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات میں اہم صنعتوں بالخصوص آٹو سیکٹر کے حوالے سے غیر مسابقتی شرائط پیش کی گئیں، جبکہ فرانسیسی زبان اور کینیڈا کے ثقافتی تحفظات سے متعلق معاملات میں بھی تبدیلیاں مطلوب تھیں۔
مارک کارنی نے کہا کہ ان میں سے کوئی ایک معاملہ بھی معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بننے کے لیے کافی ہے۔
کینیڈین وزیراعظم نے واضح کیا کہ کینیڈا ایک خودمختار ملک ہے اور وہ اپنی مرضی کے ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کرے گا۔ امریکا کینیڈا کے مستقبل کے تجارتی معاہدوں پر پابندیاں عائد نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں بعض معاملات پر دونوں ممالک کیلئے باہمی فائدہ مند پیش رفت ہوئی تھی، تاہم 21 اگست کو مذاکرات کے خاتمے کے بعد واشنگٹن کی جانب سے کینیڈا پر مسلسل تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں جھیل اونٹاریو کا نام ’لیک امریکا‘ رکھنے کی کوشش کی اور سوشل میڈیا پر کینیڈا کو نشانہ بنایا، جبکہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ کینیڈا 13 گنا بڑی امریکی معیشت کے ساتھ ’جوابی کارروائی‘ نہیں کرسکتا۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی سوشل میڈیا پر کینیڈین فوج کا مذاق اڑایا، جس پر مارک کارنی نے ان کی پوسٹ کو ان کے عہدے کے شایانِ شان نہ ہونے کے مترادف قرار دیا۔ پینٹاگون نے تاہم پوسٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’ایکس پوسٹ خود اپنی وضاحت کرتی ہے۔‘
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بعد ازاں مارک کارنی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی جانب سے ’زبانی شکست‘ کا سامنا کرنا پڑا۔
کارنی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ تعلقات جلد معمول پر آنے کی توقع نہیں، جبکہ کینیڈین لیبر کانگریس کی صدر بی برُسکے کے مطابق وزیراعظم نے مزدور رہنماؤں کو بتایا کہ موجودہ صورتحال ایک ’نیا معمول‘ ہے جس کے ساتھ کینیڈا کو خود کو ہم آہنگ کرنا ہوگا۔
دوسری جانب کینیڈین وزیراعظم کو پیر کے روز ہونے والے تین ضمنی انتخابات میں لبرل پارٹی کی کامیابی سے سیاسی تقویت بھی ملی ہے۔ ان کامیابیوں کے بعد 343 رکنی ایوانِ نمائندگان میں لبرل پارٹی کی نشستوں کی تعداد 173 ہوگئی ہے۔
امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکی صدر نے تقریباً 20 ارب ڈالر کی کینیڈین درآمدات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے، جبکہ کینیڈا کی جانب سے تقریباً 20 ارب ڈالر کی امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف 8 ستمبر سے نافذ ہونے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مرتبہ کینیڈا کو امریکا کی 51ویں ریاست بنانے کی بات بھی کرچکے ہیں۔

