شہدائے زیارت کی میتوں کی آبائی علاقوں میں تدفین کا عمل جاری

کوئٹہ (اے پی پی/ریڈیو پاکستان) زیارت میں دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی میتوں کی آبائی علاقوں میں تدفین کا عمل جاری ہے، جبکہ حکومت اور لواحقین کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد احتجاجی دھرنے بھی ختم کر دیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ 7 جولائی کو زیارت کے مانگی علاقے میں دہشت گردوں نے حملہ کر کے 30 پولیس اہلکاروں کو شہید کر دیا تھا، جس کے بعد صوبے بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔

جمعے کی شب بلوچستان حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد شہدائے زیارت کے لواحقین اور دھرنا کمیٹی نے کوئٹہ میں کوئلہ پھاٹک اور زیارت میں ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے جاری دھرنے ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

مذاکرات کے دوران بلوچستان حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد لواحقین نے احتجاج ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔

ادھر شہداء کی نمازِ جنازہ اور تدفین کا سلسلہ ان کے آبائی علاقوں میں جاری ہے، جہاں بڑی تعداد میں شہری، پولیس اہلکار اور سرکاری حکام شرکت کر کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔