امریکی حملے جاری رہے تو ایران تنازع کو علاقائی جنگ میں تبدیل کر دیگا: محسن رضائی

تہران (ارنا/مہر نیوز) ایران کے سینئر فوجی مشیر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر حملے جاری رکھے تو تہران موجودہ تنازع کو مکمل علاقائی جنگ میں تبدیل کر دے گا۔

جاری کردہ بیان میں محسن رضائی نے کہا کہ اب “جنگ یا مذاکرات” کی پالیسی ختم ہو چکی ہے۔ ان کے بقول 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کی حکمتِ عملی یہ تھی کہ تنازع کو خطے کے دیگر ممالک تک پھیلنے سے روکا جائے۔انہوں نے کہا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران نے اس مرحلے پر کویت یا خطے میں موجود دیگر امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ نہیں بنایا تھا۔

محسن رضائی کے مطابق ایران نے امریکا کو پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ اگر دوبارہ حملے کیے گئے تو تنازع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر جائے گا، تاہم امریکا نے اپنی کارروائیاں دوبارہ شروع کیں، جس کے بعد ایران نے جنگ کا دائرہ وسیع کر دیا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ اور سابقہ دونوں جنگوں میں ایران کی حکمتِ عملی دفاعی صلاحیت، بازدار قوت اور مؤثر جوابی کارروائی پر مبنی رہی ہے۔

سینئر فوجی مشیر کا کہنا تھا کہ اگر دشمن میزائل حملہ کرتا ہے تو ایران اس سے زیادہ طاقتور میزائلوں سے جواب دیتا ہے۔ ان کے مطابق ایران کا بنیادی مقصد دشمن کو مزید حملوں سے باز رکھنا اور جنگ کا خاتمہ ہے۔محسن رضائی نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کے اقدامات بھی اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں اور ان کا مقصد اپنے دفاع کو یقینی بنانا اور دشمن پر دباؤ برقرار رکھنا ہے۔