نئی دہلی (پی ٹی آئی/این ڈی ٹی وی/انڈیا ٹوڈے) بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے جنتر منتر میں جاری احتجاج کے دوران کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے پر ہفتے کے روز ایک نامعلوم خاتون نے سیاہی پھینک دی، جس سے احتجاجی مقام پر کچھ دیر کے لیے افراتفری مچ گئی۔
یہ واقعہ سماجی کارکن سونم وانگچک کی 21 روزہ بھوک ہڑتال کے بعد طبیعت بگڑنے پر انہیں اسپتال منتقل کیے جانے کے چند گھنٹے بعد پیش آیا۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ابھیجیت دیپکے اپنے حامیوں سے خطاب کر رہے تھے کہ قریب کھڑی ایک خاتون نے اچانک ان پر سیاہی پھینک دی، جس کے چھینٹے اسٹیج پر موجود دیگر افراد کے کپڑوں پر بھی پڑے۔
واقعے کے فوراً بعد احتجاجی کارکنوں نے خاتون کو قابو کر لیا، اس کے ہاتھ سے سیاہی کی بوتل چھین لی اور اسے اسٹیج سے دور کر دیا۔ بعد ازاں پولیس نے خاتون کو حراست میں لے لیا۔دہلی پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم خاتون کی شناخت اور حملے کا مقصد فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکا۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب جنتر منتر میں میڈیکل داخلہ ٹیسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں اور اس سے منسلک طلبہ کی اموات کے خلاف احتجاج تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔دوسری جانب 59 سالہ سماجی کارکن سونم وانگچک کو ہفتے کی صبح طبیعت بگڑنے پر دہلی کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں داخل کر لیا گیا۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق وانگچک گزشتہ 20 روز سے بھوک ہڑتال پر ہیں اور انہیں شدید کمزوری، جسم میں پانی کی کمی، خون میں پوٹاشیم کی کمی اور دیگر طبی پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔ ڈاکٹروں کے مشورے کے باوجود انہوں نے ڈرپ، او آر ایس اور ادویات لینے سے انکار کر دیا، تاہم انہیں مسلسل طبی نگرانی اور مشاورت فراہم کی جا رہی ہے۔
دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ سونم وانگچک کو دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات اور ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق بعض مظاہرین نے منتقلی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی، تاہم تحمل سے کارروائی مکمل کی گئی۔
ادھر ابھیجیت دیپکے نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے احتجاج کے دوران ان پر تشدد کیا، انہیں مختصر وقت کے لیے حراست میں رکھا اور پُرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا۔ انہوں نے اس کارروائی کے خلاف ملک گیر احتجاج کی اپیل کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ سونم وانگچک سے اظہارِ یکجہتی کے لیے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر رہے ہیں۔

