علم، خدمت اور وقار کی ایک یادگار شام

میلبورن کی سرد مگر دل آویز شام اُس وقت علم، وقار اور خدمتِ انسانیت کی ایک خوبصورت تصویر بن گئی جب مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات پاکستان کی نامور ماہرِ امراضِ قلب پروفیسر نصرت آرا مجید کے اعزاز میں منعقدہ خصوصی تقریب میں شریک ہوئیں۔ یہ محفل رسمی استقبالیہ نہیں ایک ایسی شخصیت کی علمی، تحقیقی اور انسانی خدمات کے اعتراف کا اظہار تھی جس نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی صحتِ عامہ اور انسانی خدمت کے لیے وقف کر رکھی ہے۔

پروفیسر نصرت آرا مجید ان دنوں آسٹریلیا میں قلبی امراض کی روک تھام کے موضوع پر منعقد ہونے والے اہم بین الاقوامی اجلاس ’’لانسیٹ کمیشن فار ایشیا پیسیفک ریجن ٹو پریوینٹ کارڈیو ویسکولر ڈیزیزز‘‘ میں پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ اس عالمی فورم میں ان کی شمولیت ان کی طویل علمی و تحقیقی خدمات کا اعتراف اور پاکستان کے طبی شعبے کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے ایسے شعبے میں نمایاں مقام حاصل کیا جہاں ماضی میں خواتین کی نمائندگی محدود تصور کی جاتی تھی۔

تقریب کے دوران خواتین کی قلبی صحت اہم موضوع کے طور پر زیرِ بحث رہی۔ پروفیسر نصرت آرا مجید نے اس امر پر زور دیا کہ خواتین میں دل کی بیماریوں کی علامات اکثر مردوں سے مختلف انداز میں ظاہر ہوتی ہیں، جس کے باعث بروقت تشخیص میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آگاہی، احتیاطی تدابیر اور ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہی دل کے امراض کے بڑھتے ہوئے خطرات کا مؤثر جواب ہیں۔

پروفیسر نصرت نے ترقی یافتہ معاشروں کی کامیابی کے بنیادی اصولوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مضبوط ادارے میرٹ، شفافیت اور اصول پسندی کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں کسی بھی قوم کی حقیقی ترقی سفارش یا مراعات سے نہیں ، قابلیت، محنت اور دیانت داری سے وابستہ ہوتی ہے۔

فیملی میڈیسن کی ممتاز ماہر ڈاکٹر فریدہ امیر علی نے پاکستان میں بنیادی طبی نگہداشت کے نظام کو درپیش چیلنجز اور مواقع پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مؤثر صحت کے نظام کی بنیاد مضبوط فیملی میڈیسن پر قائم ہوتی ہے۔ اگر پاکستان میں فیملی میڈیسن کو وہی اہمیت دی جائے جو ترقی یافتہ ممالک کے صحت کے نظاموں میں حاصل ہے تو نہ صرف مریضوں کو بروقت اور جامع طبی سہولیات میسر آ سکیں گی بلکہ بڑے اسپتالوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ فیملی میڈیسن صحت کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جہاں جنرل میڈیکل پریکٹیشنر مریض کے ابتدائی اور بنیادی طبی مسائل کا حل فراہم کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اسے متعلقہ ماہرین تک رہنمائی دیتا ہے۔ یہی مربوط نظام جدید صحتی ماڈلز کی کامیابی کا بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے۔

شرکا نے میلبورن میں مقیم معروف ماہرِ امراضِ قلب ایسوسی ایٹ پروفیسر اسرار الحق کی خدمات کو سراھا ۔ پروفیسر اسرار الحق نے آسٹریلیا میں ’’ہارٹ آف میلبورن‘‘ کے تحت جدید قلبی مراکز قائم کیے ہیں جہاں امراضِ قلب کی تشخیص اور علاج کے لیے جدید ترین طبی ٹیکنالوجی اور عالمی معیار کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان کی کاوشیں آسٹریلیا میں پاکستانی طبی ماہرین کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور عالمی سطح پر ان کے مثبت کردار کی نمایاں مثال ہیں۔

معروف ماہرینِ امراضِ قلب ڈاکٹر جان رمزی اور ایسوسی ایٹ پروفیسر اسرار الحق نے قلبی امراض کی جدید روک تھام کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ قلبی بیماریوں کے خطرات کا بروقت اور درست اندازہ لگانا، نیز خون میں چکنائی (Lipids) کے مؤثر انتظام کو یقینی بنانا آج بھی صحتِ قلب کے تحفظ کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ہونے والی مستند تحقیق اور بین الاقوامی طبی شواہد اس امر کی بھرپور تائید کرتے ہیں کہ مناسب رسک اسیسمنٹ اور مؤثر لپڈ مینجمنٹ کے ذریعے دل کی بیماریوں اور ان سے ہونے والی پیچیدگیوں میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

تقریب میں پروفیسر اسحاق بھٹی، رانا شاہد جاوید، ڈاکٹر سدرہ، ڈاکٹر فائزہ چیمہ اور پاکستانی کمیونٹی کی متعدد معزز شخصیات کی شرکت اس حقیقت کی عکاس تھی کہ علم، تحقیق، خدمت اور قومی وقار سے وابستہ شخصیات ہمیشہ معاشرے کے احترام اور محبت کا مرکز رہتی ہیں۔

تقریب کی میزبانی آسٹریلین ایسوسی ایشن اف پاکستانی پروفیشنلز کے صدر ڈاکٹر ماجد گوندل نے کی پاکستان کے قونصل جنرل واجد ہاشمی نے اپنے خطاب میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان صحت، طبی تحقیق اور میڈیکل تعلیم کے شعبوں میں تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ تقریب کا آغاز ڈاکٹر ظفر اقبال ظفر کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر یوسف ھارون احمد نے انجام دیے۔

یہ یادگار شام صرف پاکستانی معالج کی خدمات کے اعتراف تک محدود نہیں تھی اس نے یہ پیغام بھی دیا کہ علم، تحقیق، پیشہ ورانہ دیانت اور انسان دوستی کی قدریں سرحدوں کی محتاج نہیں ہوتیں۔ یہ تقریب اس حقیقت کا روشن اظہار بھی تھی کہ جب علم اور خدمت یکجا ہو جائیں تو پوری قوم کے وقار میں اضافہ کرتے ہیں۔