پیرس (رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس، اے ایف پی) فرانس میں مہنگائی، تنخواہوں میں اضافے کی کمی اور عوامی سہولتوں کی ابتر صورتِ حال کے خلاف احتجاج نے پُرتشدد رخ اختیار کرلیا، مختلف شہروں میں جھڑپوں، آتش زنی، دکانوں میں لوٹ مار اور گرفتاریوں کے بعد حکومت نے متاثرہ علاقوں میں رات کے وقت کرفیو نافذ کردیا۔ صدر ایمانوئل میکرون نے تشدد اور توڑ پھوڑ کی مذمت کرتے ہوئے سکیورٹی انتظامات میں ممکنہ کوتاہیوں کا جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
17 اکتوبر کو فرانس کے مختلف شہروں میں مہنگائی اور عوامی خدمات میں کمی کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ فرانسیسی مزدور تنظیم سی جی ٹی کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 5 لاکھ افراد ان مظاہروں میں شریک ہوئے، تاہم حکام نے فوری طور پر شرکا کی مجموعی تعداد کا تخمینہ جاری نہیں کیا۔ پیرس، لیون، مارسی، بورڈو اور لیموج سمیت مختلف شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ بعض مقامات پر پتھراؤ، آتش زنی اور دکانوں میں لوٹ مار کے واقعات پیش آئے، جب کہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کی توپیں استعمال کیں۔
حکام نے متاثرہ علاقوں میں رات کے وقت کرفیو نافذ کیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حکومت نے آئندہ احتجاجی سرگرمیوں کے پیش نظر پولیس کے ساتھ اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم سباستیاں لیکورنو نے انٹیلی جنس اور پولیس کی حکمتِ عملی میں ممکنہ ناکامیوں کا اعتراف کیا، جب کہ وزیر داخلہ نے بھی صورتِ حال پر معذرت کی۔ لیموج میں تاریخی سٹی ہال کو آگ لگانے کے واقعے سے متعلق ایک مشتبہ شخص کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
صدر ایمانوئل میکرون نے 18 اکتوبر کو خطاب میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے واقعات کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ احتجاجی سرگرمیوں سے پہلے سکیورٹی انتظامات میں کسی کوتاہی کا جائزہ لیا جائے۔ میکرون نے طلبہ، اساتذہ، ارکانِ پارلیمان، مزدور تنظیموں اور کاروباری نمائندوں کے ساتھ مشاورت کے ذریعے مسائل کے عملی حل تلاش کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
دوسری جانب ملک گیر ہڑتال اور مظاہروں کی الگ کال بھی دی گئی ہے۔ فرانسیسی مزدور تنظیموں سی ایف ڈی ٹی، سی جی ٹی، فورس اووریئر، انسا اور ایف ایس یو نے 5 نومبر کو قومی سطح پر ہڑتال اور احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ، روزگار کا تحفظ، عوامی خدمات کے لیے زیادہ وسائل اور صنعتی و ماحولیاتی پالیسی میں تبدیلیوں کا مطالبہ کرنا ہے۔ ان تنظیموں نے سرکاری و نجی شعبوں کے ملازمین، نوجوانوں اور ریٹائرڈ افراد سے شرکت کی اپیل کی ہے۔
19 اکتوبر کو فرانسیسی اخبار لی موند نے رپورٹ کیا کہ مزدور تنظیمیں 5 نومبر کی ہڑتال برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک حالیہ پُرتشدد واقعات کے باعث ملازمین کے معاشی مطالبات پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بعد میں سی ایف ٹی سی اور سولیدیر نامی تنظیم نے بھی اس تحریک میں شرکت کا اعلان کیا۔
فرانس میں جاری بحران نے سیاسی اور معاشی حلقوں میں بھی تشویش پیدا کردی ہے۔ بڑھتی مہنگائی، سرکاری خدمات پر دباؤ اور روزگار کے مسائل کے باعث حکومت کو عوامی ناراضی کا سامنا ہے۔ تاہم 17 اکتوبر کے احتجاج میں ہونے والی جھڑپیں اور 5 نومبر کی اعلان کردہ ملک گیر ہڑتال دو الگ پیش رفت ہیں؛ ہڑتال کی کال مزدور تنظیموں نے تنخواہوں، روزگار اور عوامی خدمات سے متعلق مطالبات کے لیے دی ہے۔

