لاہور(نمائندہ خصوصی)سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے قصور میں بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، غلط بجلی بلوں، بجلی چوری کے مقدمات اور شہریوں کے گھروں پر مبینہ چھاپوں کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 2 روز قبل ہونے والی کارروائیوں کو غیر قانونی قرار دے دیا۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ قصور میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، غلط بلوں اور بجلی چوری کے مقدمات کے حوالے سے عوامی شکایات سامنے آئی ہیں، جبکہ شہریوں کی جانب سے گھروں پر مبینہ چھاپوں اور چادر و چار دیواری کے تقدس کی خلاف ورزی کی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ان کے حقوق کا تحفظ متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے، میرا ردعمل غصے کے بجائے عوامی مسائل پر شدید بے چینی اور اضطراب کا اظہار ہے۔
سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ ماضی میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے دعوے کیے گئے تو آج گھنٹوں بجلی بند ہونے کا جواب بھی دینا ہوگا۔ قصور کے کئی علاقوں میں گھنٹوں بجلی کی بندش عوام کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہے، جبکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لوگ پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں اور طویل لوڈشیڈنگ نے ان کے مسائل مزید بڑھا دیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کو ہراساں کرنے اور گھروں میں مبینہ چھاپوں کی شکایات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔ غلط اور زائد بجلی بل جاری کرنے کی شکایات پر متعلقہ اداروں کو جواب دینا چاہیے جبکہ بجلی کے بل درست کرنے کے عوض مبینہ رقم طلب کرنے کی شکایات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ بجلی چوری کرنے والے کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے تاہم کسی ایک شخص کی مبینہ غلطی کی سزا پورے علاقے یا گاؤں کے شہریوں کو دینا مناسب نہیں۔ اچھے شہریوں کو دوسروں کی مبینہ خلاف ورزیوں کی سزا نہیں ملنی چاہیے۔
انہوں نے لیسکو افسران کو ہدایت کی کہ ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھنے کے بجائے خود فیلڈ میں جا کر زمینی صورتحال کا جائزہ لیں اور عوامی شکایات کا مشاہدہ کریں۔
سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ مبینہ رشوت ستانی اور شکایت کرنیوالے شہریوں کیخلاف انتقامی کارروائی کی اطلاعات تشویش ناک ہیں، عوامی شکایات اور رشوت ستانی کے معاملات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ قصور میں بجلی کے مسائل پر متعلقہ حکام اور وفاقی سطح پر بھی اپنا مؤقف پیش کروں گا۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری سے قصور میں بجلی کے مسائل پر بات کی ہے اور شہریوں کی بجلی سے متعلق شکایات ان کے سامنے رکھی ہیں۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ اگر پولیس ویڈیو شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کر رہی ہے تو نامزد افراد کے خلاف شواہد کی مکمل جانچ ضروری ہے۔ اگر ویڈیو میں مقدمے میں نامزد افراد موجود ہی نہیں تو یہ ایک سنگین معاملہ ہے۔ بجلی چوری کے مقدمات میں نامزد افراد کے خلاف شواہد کی مکمل جانچ ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ لائن لاسز پورے کرنے کیلئے عام صارفین کو گھنٹوں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سامنا کرانا مناسب نہیں۔ لائن لاسز اور واجبات کی وصولی کیلئےقانون اور ضابطے کے مطابق شفاف طریقہ کار اپنایا جائے۔
سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ گھروں پر شمسی نظام نصب کرنے والے صارفین کے خلاف کارروائیاں عوامی مشکلات میں اضافہ کرتی ہیں، بجلی کے نظام میں نقصانات اور واجبات کی وصولی شفاف اور قانونی طریقے سے ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے حلقوں کے شہریوں کے مسائل متعلقہ فورمز پر اٹھائیں۔ قصور میں بجلی کا مسئلہ وفاقی یا صوبائی دائرہ اختیار سے بڑھ کر عوامی مسئلہ ہے، آئینی اور سیاسی ذمہ داری کے تحت عوامی مسائل متعلقہ حکام کے سامنے اٹھاتا رہوں گا۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ احتساب کو سیاسی مداخلت قرار دینا درست نہیں، متعلقہ اداروں کو قانون کے مطابق فرائض انجام دینے اور عوامی شکایات کا جواب دینا چاہیے۔ عوامی نمائندے اپنے لوگوں کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں، ان کے مسائل پر آواز اٹھانا ان کی ذمہ داری ہے اور قصور کے شہریوں کی شکایات ہر متعلقہ فورم پر اٹھاتا رہوں گا۔

